ایک کپ کافی پئیں اور سب معاملے سیٹ۔۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نیب پر برس پڑی

  پیر‬‮ 24 اکتوبر‬‮ 2016  |  17:29

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیئرمین نیب کو رضاکارانہ واپسی کے اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا ہے اور دس سالوں میں رضاکارانہ رقوم واپس کرنیوالوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ پیر کو نیب میں غیرقانونی تقرریوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس پرچیف جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس دئیے کہ نیب وہ کررہاہے جوعدالت بھی کرنے کی مجاز نہیں ۔ایک کپ کافی پیو ،سارے معاملے سیٹ اور اپنی نوکری پر واپس جاؤ ، نیب میں جاؤ مک مکا کرلو۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دئیے کہ نیب بازار میں کھڑا آوازیں دے رہا ہے ?کرپشن


کر لو پھر رضاکارانہ واپسی کرالو۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ نیب اس میں سے 25فیصد لے لیتا ہے ? پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ایسی بات نہیں ، پلی بارگین یا رضاکارانہ واپسی میں نیب کو25فیصد نہیں آتا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کیس جائے تو رضاکارانہ واپسی نہیں ?اگر کیس نیب میں جائے تو رضاکارانہ واپسی ہے ، یہ امتیازی رویہ کیوں؟ جن کی نیب تفتیش کررہی ہے ان کی ترقیاں ہورہی ہیں۔جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ رضاکارانہ واپسی کرنے والے اراکین پارلیمنٹ اور انتہائی اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ رضاکارانہ واپسی کا قانون بناتے وقت شرم نہیں آئی ? یہ قانون کس نے بنایا؟ باہر ممالک کے لوگ اس قانون پر ہنستے ہیں کہ ایسے قوانین سے ملک چلایا جارہاہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اس قانون میں مناسب ترمیم کا کہا تاہم غیر مناسب ترامیم کردی گئیں۔جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس دئیے ہیں کہ تقرریوں کے حوالے سے چیئرمین نیب کا اختیار تو ملک کے چیف ایگزیکٹو سے بھی زیادہ ہے ?2002 کے بعد سے نیب میں تقرریاں اورترقیاں کیسے ہوئیں ؟نیب کے وکیل نے کہا کہ تقرریاں اور ترقیاں قواعد کے مطابق ہوئیں۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب کاقواعد پرعمل درآمد حیران کن ہے ? ایک انجینئر کوڈی جی لگایاہواہے۔عدالت نے ڈی جی نیب آگاہی مہم عالیہ رشید، میجر ریٹائرڈ برہان ،ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد، ڈی جی نیب کے پی میجر طارق اور ڈی جی نیب کوئٹہ کو نوٹسز جاری کردئیے۔عدالت نے اسکواڈرن لیڈر ریٹائرڈطارق ندیم کی ترقیوں کے خلاف درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت7نومبر تک ملتوی کردی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

موچی شاعر

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎

آپ اگر جڑانوالہ سے نکلیں تو 25 کلو میٹر بعد روڈالہ کا چھوٹا سا قصبہ آ جاتا ہے‘ روڈالہ میں سڑک کے کنارے ایک موچی چالیس سال سے لوگوں کے جوتے مرمت کررہا ہے‘ اس کا نام منور شکیل ہے اور یہ خاندانی موچی ہے‘ والد چک 280 گ ب منج میں جوتے بناتا تھا‘ منور اس کا اکلوتا بیٹا ....مزید پڑھئے‎