جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

آصف زرداری نے میرا خط کیوں سنبھال کررکھا ہوا ہے؟وزیرداخلہ بہت کچھ سامنے لے آئے

datetime 12  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کی طرف سے پیغام آیا کہ پہلے انہیں تقریر کرنے دیں ٗوزیراعظم کی تقریر پہلے ہوگئی ان کا ایک اسٹیٹمنٹ تھا ٗ میں نے تو ہر چیز میں تعریف سب کی کی ہے ٗیہ بھی کہاکہ پہلی بار زرداری صاحب کی تعریف کی ہے ٗان کے ڈھنڈورچی کھڑے ہوگئے اور کہاکہ آصف زرداری کو کوئی ضرورت نہیں ہے ٗ اگر آصف زرداری کو ضرورت نہیں ہے تو انہوں نے میرا تعریفی خط کیوں سنبھال کر رکھا ہے؟ آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ میرا قصور ہے کہ 2009ء اور 2010ء میں 2ہزار واقعات ہوئے، مگر کیوں کہ ایک ڈرامہ وزیراعظم کے سامنے رچانا تھا؟ پوائنٹ اسکورنگ ہونی تھی اور ایک تماشا لگانا تھا سو وہ تماشالگایا گیا ٗانہی دو اشخاص نے دھرنے کے دوران بد ترین بدتمیزی کی، میں نے پریس کانفرنس کرنی چاہی لیکن وزیراعظم آڑے آگئے۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا، دس نکات صوبوں کے بارے میں اور باقی دیگر وزارتوں کے بارے میں ہیں ٗیہ سب میل جول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی ایک چوتھائی سے بھی نیچے آگئی ہے ٗدہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ ایک ماڈل کے طورپر تصور ہوتی ہے، بارڈر کے باہر دشمنوں کی ایک لائن لگی ہے جو وہاں سے پلان کرتے ہیں ٗکبھی غیر ملکی گٹھ جوڑ کی بات کریں تو ہمارے اپنوں کو آگ لگ جاتی ہے ٗجب سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں دے رہے ہوں تو آپ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ٗمیرا کام ہے انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا، دو سال میں 20ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗ سول آرمڈ فورسز جو ہم دیتے ہیں اس پر بھی کہتے ہیں کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے، آپ بلاشرکت غیرے اقتدار کے مالک ہیں، یہ لڑائی جھگڑا ختم ہونا چاہیے، لیکن ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ میں سیکیورٹی فورسز کو بلاجواز تنقید سے بچاؤں، کچھ ایسے لوگ چھپے ہوئے ہیں جنہیں بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ٗمیری ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں کرپشن ہوئی ہے میں ان کا آلہ کار نہ بنوں، سو ان کو یہ تکلیف ہے، ہر روز بیان میرے خلاف آتاہے، میں نہیں چاہتا کہ جواب دوں اور ان کے لیول پر جاؤں ٗوہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا؟ جو بہت بڑے بنتے ہیں ٗمجھے پتہ ہے کہ ایل پی جی کا ٹھیکہ کس طرح ریگولرائز کیا گیا ہے، میں نے تو کبھی نام نہیں لیا، ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام نکلا اور جس نے اپلائی ہی نہیں کیا اسے ٹھیکا دے دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…