جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

بھارتی وزیرداخلہ کے چاروں شانے چت, چوہدری نثار نے کھری کھری سنا دیں

datetime 4  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سارک وزراءداخلہ کانفرنس کے دوران پاکستانی موقف کو بھرپور اور ٹھوس انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کی جدوجہد اور دہشتگردی میں بہت زیادہ فرق ہے، کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی نہیں تو کیا ہے،پاکستان نے دہشتگردی کی وجہ سے بہت سے نقصان اٹھایا اور ہم آج بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں،دہشتگردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے،اب الزام برائے الزام کے بجائے بامقصد مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا وقت آگیا ۔وہ جمعرات کو یہاں سارک وزراءداخلہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے لکھی ہوئی تقریر ایک طرف کرکے زبانی خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کا کرارا جواب دیا۔ سارک ممالک کے وزرا داخلہ کی کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے راج ناتھ سنگھ کی الزام تراشی کے بعد صدارت چھوڑ کر سیکرٹری سارک کو کہا کہ وہ اجلاس کی صدارت کریں۔
چوہدری نثار نے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 6دہائیوں میں الزامات سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہیں حاصل ہوا، اب انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے اور دہشتگردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستان سارک کے تمام معاہدوں کی حمایت کرتا ہے،پٹھانکوٹ،کابل،ممبئی،ڈھاکا حملوں میں کئی معصوم جانیں گئیں ہیں اور پاکستان میں بھی بہت سی جانیں دہشتگردی کی نذر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب الزام برائے الزام کے بجائے بامقصد مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا وقت آگیا ہے۔گذشتہ 6دہائیوں میں الزامات سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہو۔ا اب ہمیں انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا،معاشی ترقی اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،پاکستان میں اے پی ایس،سانحہ لاہور،چارسدہ یونیورسٹی جیسے واقعات ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں معصوم پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…