اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بھارتی وزیرداخلہ کے چاروں شانے چت, چوہدری نثار نے کھری کھری سنا دیں

datetime 4  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سارک وزراءداخلہ کانفرنس کے دوران پاکستانی موقف کو بھرپور اور ٹھوس انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کی جدوجہد اور دہشتگردی میں بہت زیادہ فرق ہے، کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی نہیں تو کیا ہے،پاکستان نے دہشتگردی کی وجہ سے بہت سے نقصان اٹھایا اور ہم آج بھی دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں،دہشتگردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے،اب الزام برائے الزام کے بجائے بامقصد مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا وقت آگیا ۔وہ جمعرات کو یہاں سارک وزراءداخلہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے لکھی ہوئی تقریر ایک طرف کرکے زبانی خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کا کرارا جواب دیا۔ سارک ممالک کے وزرا داخلہ کی کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے راج ناتھ سنگھ کی الزام تراشی کے بعد صدارت چھوڑ کر سیکرٹری سارک کو کہا کہ وہ اجلاس کی صدارت کریں۔
چوہدری نثار نے بھارتی وزیر داخلہ کے الزامات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 6دہائیوں میں الزامات سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہیں حاصل ہوا، اب انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے اور دہشتگردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستان سارک کے تمام معاہدوں کی حمایت کرتا ہے،پٹھانکوٹ،کابل،ممبئی،ڈھاکا حملوں میں کئی معصوم جانیں گئیں ہیں اور پاکستان میں بھی بہت سی جانیں دہشتگردی کی نذر ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب الزام برائے الزام کے بجائے بامقصد مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا وقت آگیا ہے۔گذشتہ 6دہائیوں میں الزامات سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہو۔ا اب ہمیں انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا،معاشی ترقی اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،پاکستان میں اے پی ایس،سانحہ لاہور،چارسدہ یونیورسٹی جیسے واقعات ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں معصوم پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…