اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے حکومت سے مردم شماری کرانے کا ٹائم فریم دو ہفتوں میں طلب کر لیا

datetime 15  جولائی  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے حکومت سے مردم شماری کرانے کا ٹائم فریم 2 ہفتوں میں طلب کر لیا ، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کاغذی کارروائی سے کوئی دلچسپی نہیں ، حکومت بتائے مردم شماری کروانے میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ میں مردم شماری نہ کرانے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ یا دیگر کاغذی کارروائی سے کوئی دلچسپی نہیں ، آئین کی کتاب کو الماریوں میں سجا کر رکھ دیا گیا ہے ، پہلی دفعہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ۔
کیا وفاقی حکومت مردم شماری کرانے میں سنجیدہ ہے؟ ۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے مردم شماری میں تاخیر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکومت کی جانب سے عدالت کو جمع کرائی گئی رپورٹس میں کوئی دلچسپی نہیں، حکومت مردم شماری میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں اس حوالے سے تحریری جواب دیا جائے، حکومت نے آئینی کتابوں کو الماری میں سجا رکھا ہے اور آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی پہلی مرتبہ نہیں کی گئی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انٹرنیشنل کنونشن کے تحت دس سال میں ایک مرتبہ مردم شماری ضروری ہے لیکن مردم شماری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری لینا بھی ضروری ہے تاہم آئین میں مردم شماری لازم ہے مگر ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔
اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا مردم شماری حکومت کی مرضی سے ہوگی جب کہ حکومت کے موقف سے نظر آرہا ہے کہ آئندہ 200 سال میں بھی مردم شماری ضروری نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا مردم شماری کے لئے فوج کی ضرورت آئینی ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 سال سے ہر سال مردم شماری کے لئے بجٹ مختص کیا جاتا ہے جس کے بعد عدالت نے مردم شماری کے لئے حکومت سے ٹائم فریم طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…