اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’مارشل لا ء کی دعوت کے بینر ز ‘‘ اہم سیا سی جما عت کے سر براہ کی گر فتاری کا فیصلہ ۔۔۔ احکا ما ت جا ری

datetime 14  جولائی  2016 |

لاہور (مانیٹر نگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں چیف آف آرمی سٹاف کے پوسٹرز و بینرز آویزاں کرکے مارشل لا کی دعوت دینے کے الزام میں ایک غیر معروف سیاسی جماعت ’’موو آن پاکستان‘‘ کے چیئرمین کی گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے، مو وآن پاکستان نا می سیا سی جما عت آرمی چیف جنرل راحیل شر یف کو ما ر شل لا ء کی دعوت والے بینر ز لگا نے پر اہمیت اختیا ر کر گئی ہے ۔پنجاب حکو مت نے پارٹی سربراہ کے کاروبار اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق’’مووآن پاکستان‘‘ کے نام پر سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کرانے والے محمد کامران نے چند ماہ قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہو جانے کے اعلان کے فوراً بعد فیصل آباد میں پوسٹر آویزاں کروائے تھے جن پر ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ تحریر تھا، ان پوسٹرز کے آویزاں کرنے پر ٹی ایم اے یا پی ایچ اے کے متحرک نہ ہونے اور حکومت پنجاب کی جانب سے کسی قسم کا ایکشن نہ لیے جانے کے نتیجے میں محمد کامران نے اس کا دائرہ پنجاب تک وسیع کردیا اور بعدازاں اسلام آباد میں پوسٹر آویزاں کیے جن پر’’اب آ بھی جاؤ‘‘کا سلوگن تحریر کیا جس پر آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں ان پوسٹرز کے آویزاں کرنیوالے شخص سے لاتعلقی اور اسکے مقاصد سے لاعلمی کا اظہار کیا ۔
جس پر حکومت پنجاب نے ’’مووآن پاکستان‘‘جیسی غیر معروف سیاسی جماعت کے چیئرمین محمد کامران کی گرفتاری اور اس پر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اس کے وسیع ترین کاروبار اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کا بھی عمل شروع کردیاگیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ’’مووآن پاکستان‘‘ کے دفتر سرگودھا روڈ پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیتی نان کسٹم پیڈکاریں بھی برآمد کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق محمد کامران سائبر کرائم اور دیگر ایسے دھندوں میں بھی ملوث بتایا جا رہا ہے جس پر خفیہ ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…