اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چوہدری نثار اور حساس ادارے کے سربراہ میں تلخ کلامی،اصل وجہ سامنے آگئی‎

datetime 23  مئی‬‮  2016 |
APP71-10 ISLAMABAD: September 10 - Federal Minister for Interior and Narcotics Control Chaudhry Nisar Ali Khan addressing a press conference at Punjab House. APP photo by Irfan Mahmood

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرداخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد ڈی جی ایف آئی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ تفصیلات کے مطابق اخبار میں مضمون چھپا جس میں یہ لکھا گیا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کی ضرورت ہے اورتحقیقاتی ادارے کا سارا نظام خراب ہو چکا ہے اس پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں انہوں نے ڈی جی ایف آئی سے بازپرس کی اس دوران ڈی جی ایف آئی اے اور وزیر داخلہ کے مابین جھڑپ ہوئی ۔ وزیر داخلہ نے ڈی جی ایف آئی سے کہا کہ آپ نے ایسا تاثر دیا ہے کہ جیسے میں نے تین سال کوئی کام ہی نہیں کیا، ایف آئی اے ناکارہ ادارہ ہے اور اس میں مزید بہتری نہیں لائی گئی ۔ ڈی جی ایف آئی نے کہا کہ ادارے کو بہتر بنانے کی کوشش کی ، نیت ٹھیک تھی۔ اگر آپ کا مجھ پر اعتماد نہیں تو عہدہ چھوڑ دیتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…