اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر کا خاندان بھی پاناما پیپرز کی زد میں آگیا

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبد القدیر خان کے خاندان کا نام بھی پاناما پیپرز میں آگیا۔پاناما پیپرز کے مطابق ڈاکٹر عبد القدیر خان کے بھائی عبد القیوم خان، عبد القدیر خان کی اہلیہ ہندرینہ اور ان کی دو بیٹیاں، دینہ اور عائشہ خان بہامس میں رجسٹرڈ وحدت لمیٹڈ نامی آف شور کمپنی کے مالک ہیں۔اگرچہ ان کا نام انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے آن لائن کیے جانے والے ڈیٹا میں موجود نہیں ہے، تاہم اس کا نام گروپ کو حاصل ہونے والے بڑے ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔وحدت لمیٹڈ، مئی میں ایٹمی دھماکے سے چند ماہ قبل جنوری 1998 میں رجسٹر ہوئی اور 12 اکتوبر کی بغاوت کے بعد، 31 دسمبر 1999 میں اسے غیر رجسٹر کرادیا گیا۔ پانامہ پیپرز کی دوسری فہرست میں 259 پاکستانیوں کے نام شائع ہونے پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے میڈیا کو بتایا کہ ’میں نے یا میرے اہلخانہ میں سے کسی نے کبھی اس کمپنی کا نام نہیں سنا، چند سال قبل وفات پاجانے والے میرے بھائی حبیب بینک میں ملازم تھے اور جیسا کہ آپ کو پتہ ہے، بینکرز اکثر مالی معاملات میں چالاکیاں کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میری اہلیہ یا بیٹیوں نے اس کمپنی کے قیام کے حوالے سے کبھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے، لہٰذا دستاویزات پر موجود ان کے دستخط جعلی ہیں، میرے بھائی نے اس کمپنی کے حوالے سے کبھی مجھ سے یا میری فیملی سے بات نہیں کی اور ہم نے اس کمپنی کا نام پاناما پیپرز کے سامنے آنے کے بعد سنا۔‘چونکہ آئی سی آئی جے نے کپنی کے حوالے سے ڈیٹا جاری نہیں کیا، اس لیے اس کی سرگرمیوں سے متعلق واضح معلومات نہیں مل سکیں۔ لیکن کمپنی کی دستاویزات کا جائزہ لینے والے ایک شخص کے مطابق کمپنی سے فنڈز کی نقل و حرکت کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ کمپنی کے کسی بینک اکاؤنٹ سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان 2004 کے جوہری پھیلاؤ اسکینڈل کے بعد سے گھر میں نظر بند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…