اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پانامہ لیکس معاملہ ، چیف جسٹس نے انکار کر دیا

datetime 13  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق حکومتی خط کو نا مکمل قرار دیدیا ، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھیجی گئیں ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آرز) سے تحقیقات میں سالوں لگ جائیں گے اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی اور انفرادی،خاندانوں اورگروپوں کی فہرست فراہم کی جائیں تو سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن بنانے پر غور کر سکتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز رجسٹرار سپریم کورٹ نے سیکرٹری قانون کو پانامہ لیکس پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے سے آگاہ کرد یاہے ،جوابی خط میں چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک فریقین کے درمیان ٹی اوآرز طے نہیں ہو جاتے تب تک جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل کیلئے پہلے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے ،بغیر قانون سازی کے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناممکن ہے ، خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹی اوآرزحکومت کی طرف سے دیئے گئے ہیں ان کے مطابق تحقیقات میں سالوں لگ جائیں گے۔چیف جسٹس کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ انفرادی،خاندانوں اورگروپوں کی فہرست دی جائے جن کے خلاف تحقیقات کرنی ہے،حکومت کی جانب سے بھیجی گئیں ٹی او آرز میں تحقیقات سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں،چیف جسٹس نے خط میں مزید کہا ہے کہ اگر فریقین متفقہ ٹی او آرز اور مناسب قانون سازی کی جائے تو عدالت جوڈیشل کمیشن کے قیام پر غور کریگی۔ واضح رہے کہ پاناما لیکس پر کمیشن بنانے کیلئے 5 اپریل کو حکومت کی جانب سے چیف جسٹس کو خط لکھا گیا تھا کہ اس معاملہ پر کمیشن بنایا جائے تاہم اپوزیشن کی جانب حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے ٹی او آرز کو مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ۔ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…