ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت ، امریکی کانگریس نے پابندی لگا دی

datetime 29  اپریل‬‮  2016 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) پاکستان کو امریکہ سے آٹھ ایف 16 طیارے خریدنے کے لیے ساری قیمت اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑے گی کیونکہ کانگریس نے اس کے لیے کسی طرح کی امریکی مدد دینے پر پابندی لگا دی ۔جمعہ کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اوباما انتظامیہ اب بھی پاکستان کو ایف 16 کی فروخت کے حق میں ہے لیکن اس کے لیے امریکی پیسہ خرچ نہیں کیا جا سکتا۔امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتانہ نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت طویل عمل ہے اور اس وقت ہم اس مخصوص صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے سے ایف 16 کی فروخت اب کھٹائی میں پڑ گئی کیونکہ ماہرین کے مطابق پاکستان جہازوں کے لیے مکمل قیمت اپنی جیب سے خرچ نہیں کرے گا۔ محکمہ خارجہ کے افسر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو یہ فیصلہ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کارکر کے حکم پر کرنا پڑا ہے کیونکہ کانگریس کے پاس اس رقم کو جاری کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے اس سال کے لیے دوسری ممالک کو دی جانے والی فوجی امداد کی مد میں پاکستان کے لیے 74 کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا بجٹ کانگریس کے سامنے پیش کیا تھا اس کو بھی فی الحال روک دیا گیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے افسر کا کہنا تھا کہ یہ رقم پاکستان کو نہیں دی جا سکتی لیکن اگر کانگریس اپنا ذہن تبدیل ہے تو اسے جاری کیا جا سکتا ہے۔ اوباما انتظامیہ اس معاملے پر کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق ان آٹھ طیاروں اور اس سے منسلک دوسرے آلات کی قیمت تقریباً 70 کروڑ ڈالر ہیں۔ اب تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس میں سے تقریباً 43 کروڑ ڈالر امریکی مدد کے تحت پاکستان کو ملتے اور تقریباً 27 کروڑ اسے اپنی جیب سے خرچ کرنے پڑتے۔ اس پیش رفت پر امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان ندیم ہوتانہ نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت طویل عمل ہے اور امریکی انتظامیہ پاکستان کی ایف سولہ جہازوں کی فروخت کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔ پاکستان کے خیال میں دہشت گرد نیٹ ورکس سے لاحق خطرات کی وجہ سے دفاعی صلاحیت میں مسلسل اضافے کی ضرورت ہے اور دونوں حکومتیں اس مقصد کے لیے ان جہازوں کی فروخت سمیت دیگر اقدامات کے لیے مل کر کام کرتی رہیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…