ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چھوٹو گینگ آپریشن ، شہید ہونے والے ایس ایچ او کے آخری الفاظ کیا تھے ، جان کر آپ داددینگے

datetime 16  اپریل‬‮  2016 |

راجن پور(نیوز ڈیسک)پنجاب پولیس کے جوانوں اور افسران نے چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں بہادری کی نئی مثال قائم کر دی ہے ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’خبر یہ ہے ‘میں صحافی حبیب اکرم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں منصوبہ بندی میں غلطیاں ہوئیں جس کے باعث پولیس اہلکاراور افسر شہید ہوئے ،اس کیلئے جو ذمہ دار ہیں ان کو سزا ملنی چاہیے ۔حبیب اکرم کا کہناتھا کہ حنیف غوری جو کہ کچے کے اس علاقے کا ایس ایچ او تھا جس میں آپریشن ہو رہاہے ،چھوٹو بہت پہلے سے اسے ڈھونڈ رہاتھا ،جب اسے یر غمال بنایا گیا تو چھوٹو نے حنیف غور کو کہا کہ تم ہی تو میرا بہت بڑا شکار تھے تم خود ہی چل کر آ گئے ہو ،جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ ہاں ،چھوٹو نے حنیف غوری سے کہا کہ تمھاری آخری خواہش کیاہے جس پر ایس ایچ او نے کہا کہ مجھے ایک گولی دیدو ،چھوٹو نے پوچھا تم نے گولی کیا کرنی ہے ،پولیس افسر نے کہا میں نے وہ تمہارے سینے میں اتارنی ہے ،چھوٹی نے ایس ایچ او کو فون دیا اور کہا کہ آخری بار اپنے اہل خانہ سے بات کرلو جس پر حنیف غوری نے کہا کہ میں تمہاری اس مہربانی پر لعنت بھیجتاہوں ،میں مرجان پسند کروں گا ،اس کے بعد چھوٹو نے ایس ایچ او حنیف کو شہید کر دیا ۔حبیب اکرم کا کہناتھا کہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان تھا جس کا نام اجمل کریمی تھا ،جب وہ ڈاکوؤں کے گھیرے میں آ گیا تواس نے وائر لیس پر آئی جی پنجاب کو پیغام دیا کہ ’جس طریقے سے آپ نے ہمیں اس علاقے میں اینٹری کروائی ہے یہ پروفیشنل نہیںہے لیکن ہم دلیر لوگ ہیں لڑتے لڑتے مریں گے ‘،اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گیا ۔حبیب اکرم کا کہناتھا کہ جس کشتی میں 24جوان سوار تھے ،جس میں سے کچھ شہید ہو گئے ،جب کشتی نے پوائنٹ اے سے پوائنٹ بی تک جاناتھا تو کشتی چلانے والے کو راستہ ہی نہیں بتایا گیا کہ وہاں پہنچنا کس طرح ہے ،جب کشتی چلی تو کسی کو پتہ نہیں تھا کہ کس جگہ پانی کتنا ہے ،کشتی نے رات کے اندھیرے میں ساڑھے چار بجے اپنے مقام پر پہنچنا تھا جس کی وجہ سے وہ کشتی صبح کی روشنی میں ساڑھے چھے بجے پہنچی لیکن وہ بھی مقام سے پیچھے ہی کیونکہ وہاں پانی کم تھا اور کشتی ریت میں پھنس گئی جس کو وجہ سے کشتی میں سوار جوانوں میں کچھ شہید ہو گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…