اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایسے وقت میں جبکہ اپوزیشن پانامہ لیکس اور شریف فیملی کے شور کمپنیوں میں تفتیش کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اس طرح کی بہت سی انکوائریز میں ریاست کے ناقص ریکارڈ کی طرف انتہائی کم توجہ دی جا رہی ہے ۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے حج سکینڈل، ایفی ڈرین اور اوگرا کیسسز کا ابھی تک کوئی حتمی انجام سامنے نہیں آیا یہ تین ایسے ہائی پروفائلز کیسسز ہیں جس میں پانچ سال تک پیپلزپارٹی کی حکومت کو گھیرے رکھا ۔ان کیسسز میں حکومت کے اعلی عہدیدار بشمول وزراءاعظم اور ان کے خاندان کے افراد سمیت کابینہ وزراءکی تفتیش کی گئی تاہم پی ایم ایل (ن) کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کیسسز میں کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے ۔جن کی ممکنہ وجوہ ثبوت کی عدم دستیابی ، ناقص تفتیش اور قانونی طریقہ کار کے نقائص شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لگ بھگ پانچ سال قبل 82 ارب روپے کا ایک کیس چہ سرخیوں میں تھا ۔ پیپلزپارٹی کے دو وزراءپر اس میں ملوث ہونے کا الزام تھا اوگرا کے سابق چیئرمین اس کیس میں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے تاہم سپریم کورٹ کے دباﺅ کے بعد انہیں وطن واپس لایا گیا ۔ دو سال بعد 2013 میں احتساب میں مقدمہ شروع ہوا تاہم ابھی تک یہ کیس منطقی انجام تک پہنچنے سے دور ہے ۔اس کیس میں وزراءاعظم راجہ پرویز اشرف ، سید یوسف رضا گیلانی سمیت 11 افراد ملزم تھے ۔ میڈیا رپورٹس میں 2009 حج سکینڈل کا بھی ذکر کیا گیا ہے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2010 اور 2012 کے درمیان حج کرپشن سکینڈل میں قومی سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھا جس کے بعد وفاقی کابینہ سے حامد سعید کاظمی ، اعظم سواتی رخصت ہوئے ۔ حامد سعید کاظمی نے حج 2009 کے آپریشن میں بے ضابطگیوں کے الزام میں دو سال قید میں بھی گزارے تاہم اس ہائی پروفائلز کیس کا شادو نادر ہی ذکر ہوتا ہے اور اس کی سماعت دیگر کیسسز کی طرح روٹین کی سی ہوتی ۔ جب یہ کیس پہلی مرتبہ منظر پر آیا تو اس سے پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان دراڑیں پیدا ہوئیں اعظم سواتی کی کابینہ سے رخصتی کے بعد مولانا فضل الرحمان ناراض ہوئے جنہوں نے عوامی طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔یہ سکینڈل 2010 میں اوگرا جب اعظم سواتی نے حامد سعید کاظمی پر کرپشن کا الزام لگایا سپریم کورٹ نے اس معاملے کا سوموٹو ایکشن لیا اور ایف آئی اے کو الزامات کا سراغ لگانے کا کہا ۔رپورٹس میں ہائی پروفائلز کیس ایفی ڈرین کیس کا ذکر کیا گیا ہے کورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ برسوں تک پی پی پی کی حکومت کو ہلانے والا ایفی ڈرین کیس ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکا ۔قانونی ماہرین اس تاخیر کو نامکمل تفتیش اور اے این ایف کے نقائص سے پر حکمت عملی کو قرار دیتے ہیں ایفی ڈرین کیس مارچ 2011 میں سامنے آیا جب سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ دو فارمیسٹکل کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام کی غیر قانونی تخصیص کی مکمل تفتیش کی جائے گی کیونکہ رول کے تحت ایک کمپنی پانچ سو کلو گرام سے زائد ایفی ڈرین حاصل نہیں کر سکتی ۔اس بیان نے سپریم کورٹ کی توجہ حاصل کی ۔اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کیس کی سماعت شروع کی اور 2012 میں انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسی رضا گیلانی بھی مشتبہ ہیں ۔ اے این ایف نے موسی گیلانی اور اس کے فرنٹ مین کو نوٹس جاری کئے مخدوم شہاب الدین کے وکیل عبدالرشید کے مطابق اے این ایف ملتان میں سی این ایس کورٹ میں کیس دائر کر سکتی ہے جہاں ایفی ڈرین کو فروخت کیا گیا یا اسلام آباد میں بھی دائر کر سکتی ہے جہاں پر وزارت صحت کے عہدیداروں نے ایلوکیشن کی تھی ۔
ہائی پروفائلز کرپشن سکینڈلز، تفصیلات سامنے آ گئیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایلون مسک کا کورونا ویکسین سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ
-
اسلام آباد معاہدہ ہونے والا تھا پھر کیا چیز رکاوٹ بنی؟ایران نے بتا دیا
-
2 پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز پہنچنے کے بعد اچانک واپس بھیج دیا گیا
-
ایران کی سب سے بڑی کام یابی
-
گرمی اور بجلی لوڈشیڈنگ کا توڑ: مفت سولر پینل کا حصول اور آسان
-
سونا سستا ہو گیا
-
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ایران کے ریال کی قدر بڑھ گئی
-
گھر سے سودا لینے کیلئے جانے والی 19 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی
-
ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی اصلاحات کا اعلان
-
زہریلا حلوہ کھانے سے دو سگے بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
-
رجب بٹ کی ویڈیو وائرل! بڑا دعویٰ سامنے آگیا
-
جے ڈی وینس کا طیارہ تاخیر سے کیوں پہنچا، نارمل روٹ سے سفر کیوں نہیں کیا ، پاکستان سے پہلے کہاں قیام...
-
’جلد ہی تمہیں 4 ڈالر والا پیٹرول یاد آئے گا‘ قالیباف کا ٹرمپ پر طنز اور نئی وارننگ
-
ایران کا بڑا فیصلہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا



















































