ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کوہستان میں لینڈ سلائیڈنگ، 30 افراد زندہ دفن

datetime 5  اپریل‬‮  2016 |

مانسہرہ(نیوزڈیسک) ضلع کوہستان میں کم از کم سات مکانوں پر ایک بڑا مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد زندہ دفن ہو گئے۔ کوہستان کے ڈپٹی کمشنر فضل ِ خلیق نے صحافیوں کو بتایا کہ کنڈیا تحصیل کے علاقے تھور نالا بری علاقے میں مسلسل بارشوں سے ایک چوٹی کا بہت بڑا حصہ نرم پڑنے کے بعد نیچے مکانوں پر گر پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے پولیس ٹیم علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔ مقامی افراد مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے قاصر ہیں۔ فضل خلیق کے مطابق، دشوار گزار علاقہ اور حالیہ لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے متعدد سڑکیں ختم ہو جانے سے انہوں نےامدادی کارروائیوں کیلئے خیبر پختونخوا حکومت سے ہیلی کاپٹر مانگے ہیں۔ متاثرہ علاقے کے قریبی چار پولیس اسٹیشنز کے اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیں۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مانسہرہ اورکوہستان میں کئی جگہوں پر شاہراہ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوہستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے جرمنی، چین اور جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے 26 افراد محفوظ اور مقامی پولیس سے رابطےمیں ہیں۔ سیاح پھنس گئے شاہراہ قراقرم پر لینڈسلائیڈز کی وجہ سے کم ازکم 25 غیر ملکی سیاح پچھلے دو دنوں سے شانگلہ کےبشام علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)نے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کیلئے ہیلی کاپٹرز مانگے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے پشاور میںمیڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ضلعی انتظامیہ دو اضلاع میں پھنسے افرادتک امدادی اشیا پہنچانا چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، پچھلے دو دنوں سے صوبے میں مسلسل بارشوں سے اب تک 47 افراد ہلاک اور کم از کم 37 زخمی ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…