ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

عوام کے سےاسی شعور کی وجہ سے ملک میں ڈکٹیٹرشپ اپنی جڑیں نہیں پیدا کر سکی، آصف زرداری

datetime 3  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 37ویں یوم شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو یہ شعور دیا کہ عوام ہی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہیں اور اسی شعور کی وجہ سے ملک میں ڈکٹیٹرشپ اپنی جڑیں نہیں پیدا کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل حالات میںجبکہ طاقت عوام کی بجائے غیرمنتخب عناصر کی جانب منتقل ہو رہی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فلسفہ اپنانے کی کی جتنی ضرورت اب ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے شہید ذوالفقار بھٹو کے7 3ویں یوم شہادت کے موقع پر ملک کے تمام جمہوریت پسند لوگوں سے کہا کہ وہ خود کو ایک مرتبہ پھر اس مقصد کے لئے وقف کر دیں کہ طاقت بیلٹ باکس کے ذریعے آتی ہے نہ کہ گولی کے ذریعے۔ سابق صدر زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو جگایا اور انہیں امید کی طاقت دی اور یہ طاقت بھی دی کہ وہ طاقت کی امید رکھیں۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے راستے کو روشن کیا اور کوئی بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارناموں کو ختم نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ شہید ذوالفقار بھٹو مینارائے روشنی ہیں اور عوام کے لئے مینارائے امید بھی ہیں۔ آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قائدعوام ہی تھے جنہوں نے قوم کو ایک متفقہ جمہوری آئین دیا اور ملک کے ددفاع کو مضبوط کیا۔ یہ دونوں باتیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑی ہیں ان کی حفاظت ہر صورت میں ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے روز ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ خود کو جمہوری اصولوں کے لئے وقف کر دیں گے اور ہم ان تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوںنے جمہوریت کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں اور پابندِ سلاسل ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…