ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سانحہ لاہور, محمد یوسف کے لواحقین کا پولیس کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

datetime 1  اپریل‬‮  2016 |

لاہور ( نیوز ڈیسک)لاہور کے گلشن اقبال پارک میں چار روز قبل ہونے والے خودکش حملے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے خودکش حملہ آور قرار دیے جانے والے مظفر گڑھ کے رہائشی محمد یوسف کے لواحقین نے پولیس کی ناہلی اور غیر ذمہ داری پرعدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا.میڈیا رپورٹس کے مطابق خودکش حملے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظفر گڑھ سے دوستوں کے ساتھ آئے محمد یوسف کو خودکش حملہ آور قرار دیا تھا تاہم بعد میں تفتتیش کے دوران پتا چلا کہ مقتول محمد یوسف اپنے دو دوستوں کیساتھ گلشن اقبال پارک میں سیر وتفریح کی غرض سے آیا تھا جس کے بعد پولیس کو اپنا بیان واپس لینا پڑا تاہم اب یوسف کے لواحقین نے پولیس کی اس نااہلی کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یوسف کو حملے کے روز ہی خودکش حملہ آور قرار دے دیا گیا تھا اور پنجاب پولیس کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی میڈ یا کو محمد یوسف کی تصاویر اورجائے حادثہ سے ملنے والے شناختی کارڈ کی تصاویر جاری کر دی گئی تھیں ۔ اس کے علاوہ شہد محمد یوسف کے والد اوربھائیوں سمیت چچا اور کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا اور ان سے تفتیش بھی کی گئی تاہم دو روز بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ذرائع کا مزید کہناہے کہ خبر نشر ہونے کے بعد مظفر گڑھ میں محمد یوسف کے خاندان کو جوان بیٹے کی شہادت کے غم کیساتھ ساتھ پنجاب پولیس کے رویے پرشدید ذہنی کوفت کا سامنا کر نا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس پنجاب مشتاق سکھیرا کی جانب سے گزشتہ روز بیان جاری کیا گیا تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نےمحمد یوسف کو کبھی دہشت گرد قرار نہیں دیا تھا تاہم غلط فہمی کی بنیاد پر اسے خود کش حملہ آو ر نامزد کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…