ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آخری دہشت گرد کوکیفرکردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ،وزیراعظم نوازشریف کا قوم سے خطاب

datetime 28  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ سانحہ کے باعث ہر پاکستانی کا دل زخمی ہے اور پوری قوم رنج و غم میں مبتلا ہے ۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران پشاور، شبقدر، کوئٹہ ، مردان اور دوسرے مقامات پر بھی دہشت گردوں نے معصوم جانوں کو نشانہ بنایا۔ سافٹ ٹارگٹ کو ٹارگٹ بنا کر درس گاہوں، تفریح گاہوں اور عوامی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اس تجدید کا عہد کیا کہ شہیدوں کے خون کا ایک ایک قطرہ ضائع نہیں جائے گا اور آخری دہشت گرد کو کیفردارتک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ دیگر ممالک میں بھی ہو رہی ہے اس موقع پر انہوں نے انقرہ، فرانس اور برسلز میں ہونے والے دھماکوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیرہ سال سے کسی نے بھی اس فتنے کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھا اور ہم نے اس کا آغاز کیا اور آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیاجس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ اس آپریشن کے بڑے مقاصد حاصل کر لئے گئے لیکن دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک ہمارا مشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمار ا دین، امن، سلامتی ، محبت اور اخوت کا دین ہے وہ دین جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ ہم رسول مقبولؐ کے امتی ہیں جو تمام جہانوں کیلئے رحمت بن کر آئے۔ اللہ اور رسول کے نام پر بے امنی پھیلانا جلاؤ،گھیراؤ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خطاب میں کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح رہے کہ اشتعال پھیلانے، فرقہ واریت کو ہوا دینے اور عوام کیلئے مشکلات پیدا کرنے والوں کو ضرور قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے اور یہ چیلنج دنیا بھر کو درپیش ہے۔ انسانیت کے دشمن اخلاق کی تمام حدیں پھلانگ چکے ہیں۔ ہم نے غربت ، پسماندگی اور جہالت سے لڑنے کی قسم کھائی ہے ہم نے اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کی قسم کھائی ہے ۔ انشاء اللہ کوئی دہشت گردی، کوئی فتنہ، کوئی بدامنی، ہماری طے کردہ منزل کی طرف پیش قدمی سے نہیں روک سکتی۔ ہم اللہ پر پختہ ایمان ، یقین محکم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ ناکامی اور نامرادی دہشت گردوں کا مقدر ہے۔ ہمارا آرمی پبلک سکول اور باچہ خان یونیورسٹی آج بھی علم کانور بانٹ رہے ہیں۔ دہشت گر د تعلیمی اداروں کے حوصلے پسند نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کا عظیم مشن جاری رکھیں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کے سرپرست جس بھیس میں بھی چھپے ہیں قانون کے شکنجے سے بچنے نہ پائیں۔ انہوں نے سانحہ گلشن اقبال پارک کے تمام شہداء کیلئے بلندی درجات اور ان کے ورثاء کیلئے صبر جمیل کی دعا مانگی اور کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کے والدین، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے دیکھ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو ہدایت جاری کر دی ہیں کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ زخمیوں سے عیادت کے بعد معلوم ہوا کہ زخمیوں کے حوصلے مضبوط ہیں اور مجھے اس سے مزید حوصلہ ملا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں کی بھی تعریف کی جنہوں نے عمدہ طریقے سے علاج معالجہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…