ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہونگے،سپریم کورٹ

datetime 25  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے بلدیاتی اختیارات عوامی نمائندوں کو نہ دیئے جانے کیخلاف دائر درخواست پر چاروں چیف سیکرٹریز، اور اسلام آباد سمیت پا نچو ں لوکل گورنمنٹ سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپریل کے تیسرے ہفتے تک ان سے جواب طلب کرلیا ہے ، عدالت نے اپنے حکم میں خبردار کیا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہونگے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے جمعہ کو ریمارکس دیئے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر ہونے والے مذاق بارے سب کو علم ہے ۔بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہیں ملیں گے تو عوام کے مسائل کہاں حل ہونگے جبکہ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات ملیں گے تو عام آدمی تک یہ اختیارات منتقل ہوسکیں گے انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں ۔سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار راجہ رب نواز نے موقف اختیار کیا کہ بلدیاتی انتخابات تو ہوگئے ہیں مگر ابھی تک ان نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس بلدیاتی نظام کے فوائد سے ابھی تک لطف اندوز نہیں ہورہی ۔ بلوچستان میں بلدیاتی نظام پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا عدالت نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا عدالت سے استدعا ہے کہ حکم عدولی پر وزیراعظم پاکستان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیاجائے جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے ہم چاروں چیف سیکرٹریز اور دیگر حکام سے جواب مانگ لیں پھر دیکھیں گے عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھوایا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو ذمہ داروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہونگے بعد ازاں عدالت نے درج بالا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت اپریل کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…