جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ملک میں ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) چھ عالمی ادویہ ساز کمپنیوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈی آر اے پی) کی منظوری کے بغیر خاموشی سے اپنی ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ کردیا۔کمپنیوں کی جانب سے بغیر منظوری لیے قیمتیں بڑھائے جانے سے ملک میں ادویات کی قیمتوں کا میکانزم متنازع ہوگیا ہے۔ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے مارکیٹ میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن ادویہ ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتیں بڑھائی ہیں، ان میں گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے)، سنوفی ایونٹس، ایبٹ لیبارٹریز، نووارٹس، اوٹسوکا اور ریکٹ بینکیزیئر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کی جانب سے جن ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئیں ان میں خون پتلا کرنے، بلڈ پریشر، کمزوری دور کرنے، بخار اور درد کی ادویات شامل ہیں، جبکہ ان میں کچھ ادویات خواتین کو دوران حمل بھی تجویز کی جاتی ہیں۔مذکورہ سینیئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ مریض پہلے ہی ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں اور اب ان کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی پریشانی مزید بڑھے گی۔انہوں نے کہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین سے نئی قیمتوں کے حساب سے ادویات کے پیسے چارج کریں، جس کے باعث کئی جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہوگئی ہیں اور ’مافیا‘ کو کھلی چھٹی مل گئی ہے کہ وہ مریضوں کی پریشانی کا بے جا فائدہ اٹھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ کئی ادویہ ساز کمپنیوں نے تو اپنے عملے کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ سے ادویات کا پرانا اسٹاک اٹھا کر انہیں نئی قیمتوں میں بیچا جائے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد اسلم افغانی نے کہا کہ ان کمپنیوں نے اپنے طور پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور حکم امتناع کو جواز بنا کر بغیر منظوری لیے ادویات کی قیمتیں بڑھائیں، تاہم اتھارٹی اس حکم امتناع کے فیصلے کو چیلنج کرے گی۔دوسری جانب چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب ڈاکٹر ذکاء4 الرحمٰن نے صوبے بھر کے ڈرگ کنٹرولرز کو قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے اور ڈرگ مارکیٹوں کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کرنے کا حکم دیا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…