جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کراچی : پولیس کا پی آئی اے ملازمین پر لاٹھی چارج ، 2 جاں بحق ، متعدد زخمی

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

کراچی/اسلام آباد /پشاور /لاہور /ملتان(نیوز ڈیسک) لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے اعلان کے مطابق بطور احتجاج فلائٹ آپریشن روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی تاہم مختلف شہروں میں احتجاج جاری رہا ٗ کراچی میں احتجاج کے دور ان رینجرز اور پولیس کی جانب سے شدید لاٹھی چارج ٗواٹر کینن کا استعمال اور ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کے نتیجے میں پانچ ملازمین زخمی ہوگئے جن میں سے ایک زخمی عنایت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، پولیس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا ٗ کئی رہنماؤں کی گرفتاری کیلئے فہرستیں تیار کرلی گئیں ٗاحتجاج میں شدت آجانے کے بعد کراچی ایئرپورٹ سے اندرون اور بیرون ملک جانے والی کئی پروازیں منسوخ کردی گئیں جس کے بعد قومی ایئر لائن سے سفر کرنے والے مسافر رل گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن کی نجکاری کے خلاف پی آئی اے ملازمین کی جانب سے منگل کو 8ویں روز بھی احتجاج جاری رہا۔کراچی میں پی آئی اے کے ہیڈ آفس کے باہر تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین بڑی تعداد میں جمع ہوئے جہاں سے مظاہرین ریلی کی شکل میں جناح ٹرمینل کی جانب روانہ ہوئے۔ اولڈ ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ملازمین کی جانب سے ایئرپورٹ کے گیٹ نمبر 3 سے پھلانگنے پر پولیس اور رینجرز نے ان پر شیلنگ اور واٹر کینن سے پانی کی بوچھاڑ کردی اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اس دوران پولیس نے ربڑ کی گولیوں کابھی آزادانہ استعمال کیا جس کے باعث نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین اور پی آئی اے کی خاتون ملازمہ سمیت5 افراد زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال میں منتقل کیا گیا نجی ٹی وی نے ایدھی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک زخمی عنایت ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔پولیس نے مظاہرین کے ساتھ ساتھ موقع پر موجود واقعہ کی کوریج کرنے والے میڈیا نمائندوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے جس سے پی آئی اے ملازمین نے دوڑ لگا دی۔اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔احتجاجی مظاہرین نے جیسے ہی گیٹ نمبر 3 عبور کیا پولیس نے انہیں روکنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال کیا اور بعد میں آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس سے ایک خاتون ملازم سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔بڑی تعداد میں موجود ملازمین پولیس کو ایک طرف دھکیل دیا اور جناح ٹرمینل میں مزید آگے کی جانب مارچ شروع کردیا۔ اس دوران فلائٹ آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوگیا دوسری جانب شہر میں پی آئی اے کے تمام بکنگ آفسز بندرہے ٗ ایئرپورٹ پر قائم کاؤنٹر پر بھی عملہ موجود نہیں تھاجس سے اندرون ملک اور بیرون ملک جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامناکرناپڑا ٗاسلام آباد سمیت کراچی، لاہور اور پشاور میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات ایک رات قبل سے ہی سنبھال لیے تھے۔حکومت کی جانب سے لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے بعد ناصرف اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن جاری ہے بلکہ مختلف شہروں میں پی آئی اے کے دفاتر بھی کھل گئے ہیں تاہم عملہ موجود نہیں تھادوسری جانب کراچی میں ملازمین کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سول ایوی ایشن نے ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا لاہور میں ایئرپورٹ اور پی آئی اے کے دفتر میں ملازمین کو بند کردیا گیا ٗ ملازمین کی یونین پیپلز یونٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف احتجاج میں آخری حد تک جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کراچی سے ہڑتال کی اگلی کال کا انتظار کر رہے ہیں، کراچی ایئرپورٹ پر طیارے رکتے ہی دیگر ایئر پورٹ پر بھی فلائٹ آپریشن روک دیا جائے گا۔ ادھر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ترجمان دانیال گیلانی کے مطابق معاملے کو مذاکرات سے حل کرنا چاہیے، کام نہ کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔دانیال گیلانی نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازوں کا شیڈول معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ تمام ایئرپورٹس سے فلائٹ آپریشن نارمل ہے۔یاد رہے کہ پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صبح 7 بجے سے فلائٹ آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم صبح کے اوقات میں قومی ایئر لائن کی تمام پروازیں معمول کے مطابق روانہ ہوئیں۔حکومت نے گذشتہ روز پی آئی اے پر لازمی سروسز ایکٹ نافذ کرکے ڈیوٹی پر نہ پہنچنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے فہرستیں بھی تیار کرلی گئی ہیں۔پی آئی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ 4 پروازیں شیڈول کے مطابق روانہ ہوئیں ٗدوسری جانب لاہور سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 313 منسوخ ہوئی ٗ کراچی سے جدہ جانیوالی پرواز پی کے 7303 دو گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوئی۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…