منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

سانحہ صفورا،وزیرداخلہ نے پھربڑاکام دکھادیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وفاقی وزارت داخلہ نے سانحہ صفورا اور سبین محمود قتل کیس کے ملزمان کے مقدمات فوجی عدالت منتقل کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست منظور کرلی ہے۔اطلاعات کے مطابق موصول ہونے والی دستاویز جس میں تاریخ 9 دسمبر درج ہے کے مطابق یہ منتقلی ترمیم شدہ آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ سعد عزیز، محمد اظفر عشرت اور حافظ ناصر ملک و دیگر سانحہ صفورہ، سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اور بوہری برادری پر حملوں میں ملوث تھے۔یاد رہے کہ تیرہ مئی کو کراچی کے علاقے صفورہ گوٹھ میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں خواتین سمیت 45 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔دوسری جانب اپریل 2015 میں سبین محمود کو ا±س وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ دی سیکنڈ فلور (ٹی ٹو ایف) میں بلوچستان میں گمشدہ افراد سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کے بعد واپس لوٹ رہی تھیں۔بعدازاں تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے سبین محمود کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مہم چلانے پر قتل کیا۔سبین محمود ٹی ٹوفاﺅنڈیشن کی ڈائریکٹر کے علاوہ سول سوسائٹی کی سرگرم کارکن بھی تھیں۔دستاویز کے مطابق سعد عزیز، طاہر حسین، منہاس، اسد رحمان، حافظ ناصر احمد، اظہر عشرت، سلطان قمر صدیقی، حسین عمر صدیقی، نعیم ساجد اور حافظ عمر کے مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے گئے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کے واقع میں 145 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد رواں سال جنوری میں پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں اکیسویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔پارلیمنٹ کے اس اقدام کی توثیق بعد ازاں رواں سال ستمبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کردی گئی۔رواں ماہ اگست میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے زیرالتوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے کراچی میں فوجی عدالتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…