پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

سانحہ صفورا،وزیرداخلہ نے پھربڑاکام دکھادیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)وفاقی وزارت داخلہ نے سانحہ صفورا اور سبین محمود قتل کیس کے ملزمان کے مقدمات فوجی عدالت منتقل کرنے کی سندھ حکومت کی درخواست منظور کرلی ہے۔اطلاعات کے مطابق موصول ہونے والی دستاویز جس میں تاریخ 9 دسمبر درج ہے کے مطابق یہ منتقلی ترمیم شدہ آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ سعد عزیز، محمد اظفر عشرت اور حافظ ناصر ملک و دیگر سانحہ صفورہ، سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اور بوہری برادری پر حملوں میں ملوث تھے۔یاد رہے کہ تیرہ مئی کو کراچی کے علاقے صفورہ گوٹھ میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں خواتین سمیت 45 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔دوسری جانب اپریل 2015 میں سبین محمود کو ا±س وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ دی سیکنڈ فلور (ٹی ٹو ایف) میں بلوچستان میں گمشدہ افراد سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کے بعد واپس لوٹ رہی تھیں۔بعدازاں تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے سبین محمود کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مہم چلانے پر قتل کیا۔سبین محمود ٹی ٹوفاﺅنڈیشن کی ڈائریکٹر کے علاوہ سول سوسائٹی کی سرگرم کارکن بھی تھیں۔دستاویز کے مطابق سعد عزیز، طاہر حسین، منہاس، اسد رحمان، حافظ ناصر احمد، اظہر عشرت، سلطان قمر صدیقی، حسین عمر صدیقی، نعیم ساجد اور حافظ عمر کے مقدمات فوجی عدالت منتقل کیے گئے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردی کے واقع میں 145 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد رواں سال جنوری میں پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں اکیسویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی۔پارلیمنٹ کے اس اقدام کی توثیق بعد ازاں رواں سال ستمبر میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کردی گئی۔رواں ماہ اگست میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے زیرالتوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے کراچی میں فوجی عدالتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…