کوئٹہ(آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد انور ظہیرجمالی نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر سپریم کورٹ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی انتظامیہ اختیارات سے تجاویز کرتی ہے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے معاملات کو ٹھیک رکھنے کیلئے ہر آئینی ادارہ اپنا کردار ادا کرے سب سے زیادہ ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے دیگر ججز بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نورمحمدمسکانزئی ‘ ممتاز وکلاء‘ علی احمد کرد ‘ کامران مرتضیٰ ‘ باز محمد کاکڑ ‘ عبدالغنی خلجی ‘ ہادی شکیل ‘ قاہر شاہ اور ریاض احمد نے بھی خطاب کیا چیف جسٹس آف پاکستان محمد انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ 68 سال میں ملک کو مختلف مسائل کا سامنا رہا معاملات کو ٹھیک رکھنے کیلئے ہر آئینی ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں انتظامیہ اختیارات سے تجاویز کرتی ہیں تو عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرناپڑتا ہے اداروں کو بہتر طریقے سے چلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کرنے سے متعلق بیان کی غلط تشریح کی گئی اورجوڈیشل کونسل کو فعال کرنے کا مقصد خود احتسابی کا عمل شروع کرنا ہے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے ہرشہری کا بنیادی حق ہے کہ ان کی آزادی کا تحفظ کیا جاسکے آئین پاکستان ملک کے تین ستونوں میں توازن کو قائم رکھنا ہے انہوں نے کہاکہ جج کا عہدہ ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور احساس محرومی کے خاتمہ کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ بلوچستان عدلیہ میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سب کو ملکر کام کرنا ہوگا تو ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر عوام کو تحفظ فراہم کریں گے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افرادکے معاملے پر سپریم کورٹ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی اور عدلیہ اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائے گی انہوں نے کہا کہ وکلاءنے عدلیہ کی آزادی کیلئے اپنا کردار اداکیا ہے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نورمحمد مسکانزئی نے کہا کہ بلوچستان میں عدلیہ ٹھیک طریقے سے کام کررہی ہے اورہماری کوشش ہے کہ عوام کو سستا انصاف فراہم کریں اور اب تک بلوچستان میں کئی ماتحت عدالتوں کو قائم کیا تاکہ عوام کو دوردراز علاقوں سے آنے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو انہوں نے کہا کہ 2015ءمیں کوئی بنچ نہیں آیا تھا بلوچستان وکلاءرہنماﺅں نے کہا کہ وکلاءنے عدلیہ کی آزادی اور جمہوریت کی بالادستی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے کیونکہ عدلیہ اور وکلاءکے بغیر ملک نہیں چل سکتا اس لئے وکلاءنے ہمیشہ جمہوری نظام اور عدلیہ کی بحالی کیلئے ہر وقت اپنا کردار ادا کیا ہے جب ایک دور میں عدلیہ پر برا وقت آیا تو وکلاءسیاسی جماعتوں اور عوام نے ملکر عدلیہ کی آزادی کیلئے تحویل جدوجہد کی بلاآخر کامیابی ہمیں ملی ۔
لاپتہ افراد کے معاملے پر سپریم کورٹ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی،چیف جسٹس
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سنت یہ بھی ہے
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
پمزہسپتال آتشزدگی واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟حامد میر نے نام لی...
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
ایپل نے آئی فون لانچ ایونٹ کی تاریخ کا اعلان کر دیا
-
‘بچی کو ڈاکٹر نے نہیں میں نے بچایا’، پمز واقعے میں بچ جانیوالی واحد نومولود کی خالہ نے ا...
-
جہاز کے ذریعے مچھر جرمنی پہنچ گیا، کاٹنے سے ایک ایئرپورٹ ملازم ہلاک



















































