جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جرمنی ميں پناہ گزينوں کی رہائش گاہوں پر سينکڑوں حملے

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

برلن(نیوزڈیسک)خبر رساں ادارے ايسوسی ايٹڈ پريس کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن پوليس کے اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کے آغاز سے سولہ نومبر تک ايسے واقعات کی تعداد 715 ہے۔ گزشتہ سال کے دوران پناہ گزينوں کے خلاف ايسے حملوں کی کُل تعداد 199 تھی۔تارکين وطن کے خلاف وارداتوں کی تعداد ميں واضح اضافہ اِس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ يورپ کی سب سے بڑی معيشت کے حامل ملک ميں مہاجرين کی بڑی تعداد ميں مسلسل آمد کے نتيجے ميں يہاں ’مہاجرين مخالف‘ جذبات بھی بڑھ رہے ہيں۔ اندازوں کے مطابق رواں سال کے اختتام تک شام، عراق، افغانستان، پاکستان اور چند شمالی افريقی ممالک سے سياسی پناہ کے ليے جرمنی آنے والوں کے تعداد قريب ايک ملين تک پہنچ سکتی ہے۔جرمن حکام کے مطابق تحقيقات ميں سامنے آيا ہے کہ پناہ گزينوں کی رہائش گاہوں پر حملوں ميں س640 کيسز ميں دائيں بازو کی ترجيحات کے حامل افراد يا گروپوں کا عمل دخل ہے جب کہ 75 وارداتوں ميں تاحال مقاصد کا تعين نہيں کيا جا سکا۔ 56 وارداتوں ميں مہاجرین کی عارضی رہائش گاہوں کو نذر آتش کيا گيا جب کہ آٹھ کيسز ميں ایسا کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ برس پناہ گزينوں سے متعلق کیمپوں کو نذر آتش کرنے کے کُل چھ واقعات رپورٹ کيے گئے تھے۔ جنوری 2015ء ميں يوميہ بنيادوں پر ايسے واقعات کی اوسط تعداد ايک تھی، جو نومبر ميں تين ہے، يعنی ہر روز تين ايسے واقعات رونما ہوتے ہيں۔جرمن حکام کے مطابق انتہائی دائيں بازو کے گروپ سوشل ميڈيا پر مہم چلاتے ہوئے پناہ گزينوں کے حوالے سے خوف پھيلانے کو کوشش کر رہے ہيں۔ ان کے بقول متعدد حملے انٹرنيٹ پر جاری ايسی ہی مہمات کا نتيجہ ہو سکتے ہيں۔ حکام نے اس بارے ميں مزيد وضاحت کے ليے بتايا ہے کہ ايسی وارداتوں ميں ملوث ہونے کے شبے ميں زير حراست ليے جانے والے دو تہائی ملزمان پہلے سے جرمن پوليس کی نظروں ميں تھے، جو انتہا پسندوں کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…