جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

محمد عامر معافی کا حقدار ہے،اسے ٹیم میں واپسی کاموقع دینا چاہئے : عمران خان

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان تحر یک انصاف کے چیئرمین اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے کہاہے کہ محمد عامرنے جب میچ فکسنگ جیسی غلطی کی تو اس وقت اس کی عمر بہت چھوٹی تھی اور اس کے بعد اسے 5 برس کی سزا بھی دی گئی تو اب اسے ٹیم میں واپسی کا موقع دینا چاہئے ،کیونکہ اللہ بھی ہماری غلطیاں معاف کرنے والا ہے تو ہمیں بھی محمد عامر کو معاف کر دینا چاہئے۔عمران خان نے مزید کہا کہ انہیں کرکٹ کھیلنے کا شوق زمان پارک سے پیدا ہوا اور فاسٹ بائرلنگ کرنے کا شو ق فاسٹ بائولر ڈینس للی کو دیکھ کر پیدا ہو ا۔نجی ٹی وی چینل کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھا کہ ان کے نانا گورنمنٹ کالج کی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور ان کے ماموں نے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ،زمان پارک میں ساری فیملی رہتی تھی اور وہیں پارک میں ہم سب مل کرکرکٹ کھیلا کرتے تھے جہاں سے کرکٹ کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔عمران خان کا کہناتھا کہ وہ ایک میڈیم پیسر باولر تھے لیکن ڈینس للی کو باولنگ کرتے ہوئے دیکھ کر انہیں فاسٹ باولر بننے کا شوق ہوا جبکہ وہ ایک میڈیم پیسر تھے ان کیلئے فاسٹ باولر بننا انتہائی مشکل کام تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھی۔
عمران خان کا کہناتھا کہ انہیں فاسٹ بائولر بننے کیلئے اپنا بائولنگ ایکشن مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا،میڈیم گیند کروانے میں ایکشن اور تھا اور فاسٹ بائولر بننے کیلئے ایکشن تبدیل کیا اور وہ وقت انتہائی مشکل تھا کیونکہ کبھی کبھی پرفارمنس اچھی نہیں ہوتی تھی جس کے باعث دیگر دوست کھلاڑی اکیڈمی میں ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے لیکن انہوں نے اپنی جدو جہد جاری رکھی اور فاسٹ بائولر بننے میں کامیا ب ہوئے۔عمران خان کا کہناتھا کہ خوابوں کو پورا کرنے کیلئے ارادے مضبوط ہونے چاہیے ،میں رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ آج مجھ سے کھیل کے دوران کیا غلطیاں ہوئیں اور الگے دن ان پر قابو پانے اور انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جس دن پرفارمنس اچھی نہیں ہوتی تھی میں اس دن کا اخبار نہیں پڑھتا تھا کیوں کہ میں ایک کھلاڑی ہوں اور مجھے اپنی غلطیوں کا زیادہ اچھے طریقے سے پتہ ہے اس لیے جو ملاحظہ اپنا میں خود کرسکتاہوں وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…