جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف حکومت کرنے نہیں بلکہ دکان چمکانے آتے ہیں، عمران خان

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

میانوالی(آن لائن)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نوازشریف حکومت کرنے نہیں بلکہ دکان چمکانے آتے ہیں،جدہ میں نواز شریف کی سٹیل ملز بڑی شان وشوکت سے چل رہی ہے جبکہ پاکستان کی سٹیل ملز کو بند کر کے ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کر دیا گیا ہے،میٹرو بس پر لگائے گئے ڈیڑھ ارب روپے عوام پر لگائے جاتے تو آج ملک سے غربت کا خاتمہ ہو چکا ہوتا ،موجودہ حکومت کسان دشمن ہے اگر مخلص ہوتی تو ڈیزل پر جی ایس ٹی 16 فیصد کرنے بجائے 50 فیصد تک بڑھا دیا ہے ۔پیر کے روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں نکالی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانوالی کے لوگ باشعور ہیں اور تحریک انصاف کی بھر پور سپورٹ کرتے ہیں شاندار استقبال پر عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عمران خان نے کہا کہ یہاں کے لوگ بہت محنتی اور محنت کش ہے اپنے ملک سے بہت پیار کرنے والے لوگ ہیں ،عوام نے بلدیاتی انتخابات میں صرف ”بلے“ پر ڈھپہ لگا کر فرق واضح کرنا ہے کہ اس وقت نیا پاکستان کی ضرورت ہے یا نہیں پرانے پاکستان کی ،عمران خان نے کہا کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے کوئی پروگرام شروع نہیں کیا ہے ،سڑکیں اور روڈ بنائی جارہی ہیں جہاں ان کا سریا استعمال ہو رہا ہے، ملتان اور اسلام آباد میٹرو پر ڈیڑھ ارب روپے ضائع کر دیئے گئے ہیں اگر یہ ڈیڑھ ارب ملک بھر کے کسانوں کیلئے رکھے جاتے تو غربت کا خاتمہ ہو چکا ہوتا ، عمران خان نے کہا کہ 70 فیصد پاکستان کا دارومدار کاشتکاری پر ہے لیکن اس کے باوجود کسان غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، حکومت کسانوں کا استحصال کر رہی ہے اور ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2 میٹرو منصوبوں پر 150 ارب روپے خرچ کئے جب کہ ملک بھر کے کسانوں پر 40 ارب روپے سے بھی کم رقم خرچ کی، اگر میٹرو منصوبوں پر خرچ کی جانے والی رقم کسانوں پر لگا دی جاتی تو ملک سے غربت کم ہوتی لیکن ان کا کام ہی بڑے بڑے میٹرو منصوبوں کے ذریعے کمیشن بنانا اور اپنا پیسہ لندن اور دبئی بھجوانا ہے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب بھی سیاست میں آئے ہیں وہ اپنی دکان چمکانے ہیں اور اپنا کاروبار مزید وسیع کر کے چلے جاتے ہیں،ملک میں منافع بخش اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے ، فیصل آباد میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی فیسکو کو نجکاری کرنے کا منصوبہ ہے یہ ایک منافع بخش ادارہ ہے اور اس میں کام کرنے والے ملازمین خوشحال زندگی گزاررہے ہیں تاہم حکومت اپنی کمیشن کیلئے فیسکو کو نجکاری کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز کو بھی بند کر کے ہزاروں ملازمین کو بے روز گار کر دیا گیا ہے ،آصف زرداری کے دور میں سٹیل ملز8 ارب روپے منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہی ہے تاہم جس وقت نواز شریف آئے تو سٹیل مل کو بند کر دیا ہے حالانکہ ان کی اپنی سٹیل ملز جو جدہ میںقائم ہے بڑی شان و شوکت سے چل رہی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف اندر سے ملے ہوئے ہیں تاہم تحریک انصاف ان کا ہر میدان میں مقابلہ کرے گی ،عمران خان نے کہا کہ جب موجودہ حکومت آئی تو ڈیزل پر جی ایس ٹی 16 فیصد تھی لیکن آج ڈیزل پر جی ایس ٹی 50 فیصد ہو چکی ہے، اگر ڈیزل پر جی ایس ٹی 16 فیصد کر دی جائے تو ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے فی لیٹر کمی ہو جائے اور ملک سے غربت کا خاتمہ ہو کیونکہ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو سب چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں،عمران خان نے کہا کہ کسان پیکج سے صرف ایک خاص طبقے کو نوازا گیا ہے موجودہ حکومت کسان دشمن ہے انہیں کسانوں سے کوئی ہمدردی نہیںہے اس وقت 70 فیصد ملک کسانوں کی اناج اگاج پر چل رہا ہے کسان خوشحال نہیں ہوگا تو پاکستان کیسے خوشحال ہوگا،تحریک انصاف نے ملک بھر میں نظریے کی سیاست شروع کر دی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) صرف ذات کی سیاست کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب آصف علی زرداری نے اقتدار سنبھالا تو اسٹیل مل 8 ارب روپے کے منافع پر تھی لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ملی بھگت سے آج اسٹیل مل 200 ارب روپے کے خسارے میں چلی گئی ہے، میاں صاحب کی جدہ میں اپنی اسٹیل مل بہت زبر دست طریقے سے چل رہی ہے اور عوام کی اسٹیل مل بند ہو چکی ہے، مزدور بے روز گار ہو گیا ہے، یہ سب اسٹیل مل کو پرائیویٹائز کرنے کے لئے ہو رہا ہے۔ اسی طرح فیصل آباد میں پاور جنریشن کمپنی فیسکو جو نفع میں چل رہی ہے اسے بھی پرائیویٹائز کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں کیونکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے، اپنے ووٹ کی طاقت سے حکومت کو اس کی کارکردگی پر جزا اور سزا دی دیں۔ وقت آ گیا ہے کہ نئے اور پرانے پاکستان میں فرق ہو اور ملک سے قبضہ مافیا کا خاتمہ ہو، تحریک انصاف نظریے کی سیاست کرتی ہے جب کہ دیگر جماعتیں بڑے بڑے کنٹریکٹ دینے کے لئے سیاست کرتی ہیں۔ اپنے ووٹ کو اپنے ملک اور بچوں کے مستقبل کے لئے استعمال کریں اور بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیاب کرائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…