بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

طاقت اور پیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیاجاسکتا، براک اوباما

datetime 29  ستمبر‬‮  2015 |

جینوا (نیوزڈیسک) امریکی صدربراک اوباما کا کہنا ہے امریکا سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اکیلے دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا جب کہ طاقت اور پیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیاجاسکتا۔اقوام متحدہ کی 70 ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر براک اوباما نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں جمہوریت کا تحفظ کرنا ہو گا جب کہ اقوام متحدہ کے اصولوں نے جمہوریت کو فروغ دینے میں مدد دی ہیلہذا اس کی کامیابیوں پرغورو فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ہماری منزل ابھی دورہے، ہم کئی بڑی اقوام کو تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ سب کو ساتھ لے کر امن کی راہ تلاش کرتی ہیں۔براک اوباما نے کہا کہ صرف متحد ہو کر ہم دنیا سے غربت ختم کر سکتے ہیں لیکن دنیا میں لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، کوئی قوم اور ملک دہشت گردی اور مالی مسائل سے بچی ہوئی نہیں ہے اور امریکا چاہے کتنا ہی طاقتور ہو امریکا سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اکیلے دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔باراک اوباما کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ روس کے خلاف پابندیاں سرد جنگ کی طرف لوٹنے کی عکاس نہیں، امریکا مضبوط روس چاہتا ہے جو ہمارے ساتھ مل کر کام کرے جب کہ روس اور ایران کیساتھ مل کر امریکا شام کا مسئلہ بھی حل کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی مدد صرف فلاحی کام نہیں بلکہ یہ ممالک کے اپنے مفاد میں بھی ہے اور امریکا پناہ گزینوں کی بھرپور امداد کا سلسلہ جاری رکھے گا جب کہ شام کے مسلے کے حل کے لیے تمام اقوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق میں ہم نے سبق سیکھا کہ طاقت اور پیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیاجاسکتا کیونکہ علاقوں پر قابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہی اب قوموں کی طاقت کا مرکز وہاں کے عوام ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ عارضی نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کا عکاس ہے جب کہ ایران کے جوہری معاملے نے ثابت کیا کہ مذاکرات سے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں اور پابندیوں کا مقصد صرف کسی کو سزا دینا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…