بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

اعتراف کرتا ہوں کہ سائلین کو فوری اورسستا انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ اعتراف کرتا ہوں کہ بدقسمتی سے ملک میں سائلین کو فوری اور سستا انصاف نہیں مل رہا۔اپنے اعزاز میں دیئے گئے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ کمزور نظام کے نتیجے میں احتساب کی روایت کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے جب کہ بعض وکلاء کے منفی کردار کا منہ بولتا ثبوت روز افزوں ہڑتالوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدل کسی منصب، پیسے اورنوکری کا نام نہیں بلکہ یہ ایک خدائی صفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے عدل اور انصاف کے ایوانوں میں دھونس، دباو¿ اور اثرورسوخ والوں کی ناراضگی جیسے خوف کے کئی روپ دیکھے ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بہت سے مقدمات 3، 3 نسلوں تک چلے تھے، ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک کیس دائر ہونے سے فیصلہ ہونے تک اوسطاً 25 سال لگ جاتے ہیں، بدقسمتی سے اعتراف کرنے پرمجبور ہوں کہ سائلین کو فوری اورسستا انصاف نہیں مل رہا، ایسا نظام جو فوری اور سستا انصاف مہیا نہ کرسکے اسکو بدلنا حکومت، ججوں سمیت ہر شخص کی ذمہ دار ی ہے۔دوسری جانب نامزد چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، بطور جج چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی سوچ و فکر اور تجربے کو قانون کی حکمرانی کی ترویج کے لئے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کو ایک عظیم قانون دان اور قانون و انصاف کے محافظ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔جسٹس ظہیر انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے فیصلوں سے جمہوری روایات اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کیا، فیصلہ متفقہ ہو یا اختلافی جج اپنا نکتہ نظر بتانے سے نہیں ہچکچاتا اور چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے فیصلوں سے ثابت کیا کہ انہوں نے تمام دباو¿ سے بالاتر ہو کر اپنا نکتہ نظر بیان کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…