جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

کرپشن کیسز میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں نے امریکہ کی پریشانی بڑھا دی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکا نے پاکستان کی سیاسی اورفوجی قیادت پر پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کیخلاف بدعنوانی کے مقدمات کی پیروی نہ کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سیاسی نظام پٹڑی سے اترسکتا ہے۔امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران وزیراعظم نوازشریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتوں میں یہ معاملہ زیربحث آیا ہے۔صورتحال سے باخبرسرکاری ذرائع نے بتایاکہ امریکی مشیرقومی سلامتی سے ملاقاتوں میں بھارتی رویے اور افغان امن عمل، دوطرفہ اورعلاقائی معاملات پرگفتگوکے علاوہ سیاسی استحکام کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ان ذرائع نے بتایا کہ امریکا نے پاکستان میں سیاسی استحکام کوخطے کے مجموعی استحکام اورقیام امن کیلیے اہم قراردیا ہے۔سوزن رائس کاموقف تھاکہ پاکستان میں جمہوریت کااستحکام اہم ہے اورکراچی میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن بلاتفریق جاری رہ سکتا ہے لیکن اب پیپلزپارٹی کی قیادت کیخلاف بدعنوانی کے الزامات پرکارروائی آگے بڑھانے سے تصادم کو ہوا مل سکتی ہے جس سے سیاسی استحکام متاثراورملک میں جمہوری نظام کوخطرہ ہوسکتا ہے۔اس معاملے پرایک سیاسی تجزیہ کارنے تبصرہ کیا ہے کہ امریکا بظاہرکہتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا لیکن ہیلری کلنٹن کی سامنے آنے والی حالیہ ای میلز سے پاکستان کے معاملات میں امریکی دخل اندازی کا پتہ چلتا ہے۔کرپشن چاہے کسی کی ہو اس کیخلاف کارروائی وقت کاتقاضااورپاکستان کااندرونی معاملہ ہے ،امریکا کوکسی سیاسی جماعت یا رہنماکے تحفظ کیلئے سامنے آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ڈاکٹر عاصم حسین کی حالیہ گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت نے حکومت پر سخت تنقیدکی ہے۔ڈاکٹر عاصم سے اب دہشت گردوں کے تحفظ اورانھیں مالی وسائل فراہم کرنے کی تفتیش کی جارہی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی مسلم لیگ ن کیخلاف چارج شیٹ اورسخت بیان جاری کیا۔پی پی کے حالیہ بیانات سے لگتا ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں پر بدعنوانی کے الزامات کاسامناکرنے کیلیے تیار نہیں ہے اور 2007سے جاری مصالحتی پالیسی کوچھوڑکر حکومت سے تصادم کاراستہ اختیارکرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…