بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

سرتاج عزیز،اشرف غنی ملاقات۔ برف پگھلانے میں ناکام رہی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ مہینے کابل میں دہشت گردی کے بعد خراب ہونے والے تعلقات کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کو ملے جلے اشارے دیے ہیں۔پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز جمعہ کو کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دورے کے نتیجے میں باہمی تعلقات بحال ہوں گے یا پھر تناو¿ کی کیفیت جاری رہے گی۔اشرف غنی نے کابل میں سرتاج عزیز سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ون-ٹو-ون ملاقات کے بعد افغانستان پر علاقائی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے خطاب کے دوران پاکستان سے اچھے تعلقات کی پالیسی کا عزم دہرایا لیکن ساتھ ہی ساتھ مبینہ طور پر افغانستان میں امن کے مخالف پاکستانی نامعلوم عناصر کی جانب اشارہ بھی کیا۔افغان صدر کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرتاج عزیز سے ملاقات کشیدہ تعلقات کی برف پگھلانے میں ناکام رہی۔عزیز نے علاقائی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ وفد میں وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض بھی شامل تھے۔کانفرنس میں شرکت اور غنی سے ملاقات کے علاوہ پاکستانی مشیر نے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، قومی سلامتی کے مشیر حینف اتمر سمیت متعدد افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی دعوت میں بھی شرکت کی۔سرتاج عزیز کی ملاقاتوں کا مرکز پڑوسی ملکوں کے خراب تعلقات میں بہتری کی راہ تلاش کرنا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ دورے کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ اسی طرح سرتاج عزیز کی افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتوں پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ایک مبصر کے مطابق، کابل دورے کے نتائج کو افغان صدر کے خطاب کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔اشرف غنی نے خطاب میں کہا ’پاکستانی رہنما امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں مضبوط اور پر اعتماد کے بجائے کمزور اور غیرمستحکم افغانستان پر یقین رکھنے والی قوتوں کو کنٹرول کرنے کی صورت میں چیلنج کا سامنا ہے‘۔پاکستان میں ’امن مخالف عناصر‘ کی جانب اشارے سے افغان صدر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کا عزم مانند دکھائی دیتا ہے۔اسلام آباد کے ساتھ تعلقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے غنی نے کہا ’ہماری اقتصادی حکمت عملی پڑوسی ملکوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘۔’ہمیں یقین ہے کہ ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس میں پاکستان اور افغانستان عوام کی خوشحالی کیلئے اپنی معیشت کو ترقی دے سکیں ‘۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ’ترقی کا راستہ دشوار ہے اور اس میں کئی دھچکے آئیں گے‘۔انہوں نے اس معاملہ پر قومی اتحادی حکومت کے اندر اختلافات کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ’ڈاکٹر عبداللہ اور میں امن کی اس جدو جہد میں متحد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…