بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سرتاج عزیز،اشرف غنی ملاقات۔ برف پگھلانے میں ناکام رہی

datetime 5  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ مہینے کابل میں دہشت گردی کے بعد خراب ہونے والے تعلقات کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کو ملے جلے اشارے دیے ہیں۔پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز جمعہ کو کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس دورے کے نتیجے میں باہمی تعلقات بحال ہوں گے یا پھر تناو¿ کی کیفیت جاری رہے گی۔اشرف غنی نے کابل میں سرتاج عزیز سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ون-ٹو-ون ملاقات کے بعد افغانستان پر علاقائی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کیا۔انہوں نے خطاب کے دوران پاکستان سے اچھے تعلقات کی پالیسی کا عزم دہرایا لیکن ساتھ ہی ساتھ مبینہ طور پر افغانستان میں امن کے مخالف پاکستانی نامعلوم عناصر کی جانب اشارہ بھی کیا۔افغان صدر کے خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سرتاج عزیز سے ملاقات کشیدہ تعلقات کی برف پگھلانے میں ناکام رہی۔عزیز نے علاقائی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ وفد میں وزارت خارجہ کے حکام کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل عامر ریاض بھی شامل تھے۔کانفرنس میں شرکت اور غنی سے ملاقات کے علاوہ پاکستانی مشیر نے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، قومی سلامتی کے مشیر حینف اتمر سمیت متعدد افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کی دعوت میں بھی شرکت کی۔سرتاج عزیز کی ملاقاتوں کا مرکز پڑوسی ملکوں کے خراب تعلقات میں بہتری کی راہ تلاش کرنا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ دورے کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ اسی طرح سرتاج عزیز کی افغان رہنماو¿ں سے ملاقاتوں پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ایک مبصر کے مطابق، کابل دورے کے نتائج کو افغان صدر کے خطاب کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے۔اشرف غنی نے خطاب میں کہا ’پاکستانی رہنما امن کی خواہش رکھتے ہیں لیکن انہیں مضبوط اور پر اعتماد کے بجائے کمزور اور غیرمستحکم افغانستان پر یقین رکھنے والی قوتوں کو کنٹرول کرنے کی صورت میں چیلنج کا سامنا ہے‘۔پاکستان میں ’امن مخالف عناصر‘ کی جانب اشارے سے افغان صدر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کا عزم مانند دکھائی دیتا ہے۔اسلام آباد کے ساتھ تعلقات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے غنی نے کہا ’ہماری اقتصادی حکمت عملی پڑوسی ملکوں بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی سیاسی حکمت عملی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے‘۔’ہمیں یقین ہے کہ ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس میں پاکستان اور افغانستان عوام کی خوشحالی کیلئے اپنی معیشت کو ترقی دے سکیں ‘۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ’ترقی کا راستہ دشوار ہے اور اس میں کئی دھچکے آئیں گے‘۔انہوں نے اس معاملہ پر قومی اتحادی حکومت کے اندر اختلافات کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ’ڈاکٹر عبداللہ اور میں امن کی اس جدو جہد میں متحد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…