بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی،ثبوت افغانستان کی میز پر

datetime 4  ستمبر‬‮  2015 |

کابل تک موٹر وے بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی ترقی، خوشحالی اور اس کی علاقائی یکجہتی کیلئے افغان صدر محمد اشرف غنی کے روشن خیال وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ای سی سی اے گذشتہ کئی سالوں سے ایک ولولہ انگیز پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے جس نے افغان نیشنل ڈویلپمنٹ سٹرٹیجی کے تحت ترقیاتی منصوبوں کیلئے قابل تعریف کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کثیر جہتی ترقیاتی تعاون اور خطہ کے ممالک کے ساتھ بین العلاقائی تعاون کے فروغ کیلئے آر ای سی سی اے کے اہم مقاصد کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ آر ای سی سی اے VI کے مقاصد ہارٹ آف ایشیاءاستنبول پراسس کے تحت اختیار کئے گئے فریم ورک کو تقویت دے رہے ہیں جس کی پاکستان افغانستان کے ساتھ شریک صدارت کر رہا ہے، یہ باہمی کوششیں ایک خوشحال اور پرامن افغانستان کیلئے خوش آئند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ایشیائی راﺅنڈ اباﺅٹ میں تبدیل کرنے کیلئے نہ صرف داخلی کوششوں کی ضرورت ہے بلکہ دیگر علاقائی ممالک کے ٹھوس اور جامع تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انفراسٹرکچر، روڈ/ریل، توانائی، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ سمیت متعدد بین العلاقائی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پشاور جلال آباد اور چمن سپن بولدک ریل رابطوں سمیت پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریل رابطوں کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ہم پشاور کابل موٹروے کیلئے فزیبلٹی سٹڈی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ طورخم جلال آباد کے اضافی کیرج وے پر کام کا آغاز ہو چکا ہے جو دسمبر 2016ءتک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان شاہراتی روابط کو وسطی ایشیاءتک توسیع دینے کا عزم کر رکھا ہے۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کی ترقی کیلئے بڑا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ منصوبہ پر عملدرآمد سے کوریڈور مغربی چین اور وسطی ایشیاءاور افغانستان کے درمیان تجارت کیلئے ایک مسابقتی راہداری رابطہ فراہم کرے گا۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ کیسا 1000 اور تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ نے ان منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کیلئے تقویت دی۔ ہم آنے والے مہینوں میں دیگر بقیہ ایشوز کو حتمی شکل دینے کیلئے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے ساتھ دریائے کنڑ

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…