جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

بھارتی ہائی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں اور 6 شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں روکتے ہوئے 2003ءکے سمجھوتے کی پابندی کرے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری کی طرف سے بھارتی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور حکومت پاکستان کی جانب سے ورکنگ باﺅنڈری پر ہڑپال اور چپراڑ سیکٹر میں بھارتی فوج کی سیز فائر کی تازہ خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 6 شہری شہید اور 22 خواتین سمیت 47 شہری زخمی ہوگئے جن میں سے دس کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ سیالکوٹ میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعاءکی ہے۔ بھارت کی تازہ فائرنگ کے نتیجے میں تین گاﺅں سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن میں کندن پور، باجرہ گڑھی اور ٹھٹھی شامل ہیں، ان علاقوں کے متعدد گھر بھی تباہ ہوگئے۔ بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی فوجیوں نے ورکنگ باﺅنڈری کے قریب طے شدہ طریقہ کار کے برعکس بھارت کی جانب سے زمین کی کھدائی پر ان کی توجہ دلائی۔ ابتدائی طور پر پاکستانی فوجیوں کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا تاہم جب بھارتی فوجیوں نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی تو پاکستان کی جانب سے بھی اس کا بھرپور جواب دیا گیا فائرنگ کا سلسلہ جمعہ کو دن گیارہ بجے کے قریب ختم ہوا ۔ دفتر خارجہ طلبی کے موقع پر بھارتی ہائی کمشنر کو بتایا گیا کہ پاکستانی حکومت سویلین باشندوں کو نشانہ بنانے پر بھارتی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور بھارت کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر مسلسل معاندانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اس موقع پر بھارتی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ فوری طور پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند کرے اور 2003ءمیں دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر سے متعلق طے پانیوالے سمجھوتے کی پابندی کرے تاکہ ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر امن بحال ہوسکے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…