جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

نون لیگ کی ایک اور وکٹ گرگئی

datetime 26  اگست‬‮  2015 |

لودھراں(نیوز ڈیسک) تحریک انصاف نے نون لیگ کی تیسری اہم وکٹ گرادی ، الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ دیتے ہوئے این اے 154میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دے دیا ہے ،تحریک انصاف کے جہانگیر ترین نے آزاد امیدوار صدیق بلوچ کی فتح کو چیلنج کر رکھا تھا۔عام انتخابات میں لودھراں کے حلقہ این اے 154 سے آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ کامیاب ہوئے تھے، جنہوں نے بعد میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی۔ جہانگیر ترین نے انتخابی نتائج مسترد کردیئے اور چیف الیکشن کمشنر کو دوبارہ گنتی کی درخواست دی۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں صدیق بلوچ کو تقریباً ایک ہزار ووٹوں کی مزید برتری حاصل ہوگئی، لیکن جہانگیر ترین نے ری کاوئنٹنگ کا بائیکاٹ کردیا اور الیکشن ٹریبونل ملتان میں انتخابی عذر داری دائر کردی ، جس میں مو قف اختیار کیا گیا کہ انتخاب میں دھاندلی اور بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور صدیق بلوچ کی ڈگریاں جعلی ہیں ،لہٰذا انہیں نااہل قرار دے کر جہانگیر ترین کو کامیاب قرار دیا جائے۔انتخابی عذرداری کی پہلی سماعت 15 اگست 2013ئ 4 کو ہوئی۔21 مئی 2014 ئ 4 کو الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس (ر) رانا زاہد محمود نے ووٹوں کیانگوٹھوں کی نادرا سے تصدیق کا حکم دیا۔ جس پر صدیق بلوچ نے ملتان ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا۔ حکم امتناع کے خلاف جہانگیر ترین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 6 جون 2014 ئ 4 کو سپریم کورٹ نے ملتان ہائی کورٹ کا حکم امتناع خارج کردیا اور الیکشن ٹریبونل ملتان کا حکم برقرار رکھا۔28 اکتوبر 2014 ئ 4 کو نادرا نے انگوٹھوں کی تصدیق کی 7 سو صفحات پر مشتمل رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کرادی۔ رپورٹ کے مطابق حلقہ کے 290 پولنگ اسٹیشنوں پر 2 لاکھ 18 ہزار 256 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ایک لاکھ 22 ہزار 133 ووٹ ایسے تھے جو غیر معیاری سیاہی اور انگوٹھوں کے مناسب نشان نہ ہونے کی وجہ سے شناخت نہیں ہوسکے تاہم شناختی کارڈ نمبر درست تھے۔20601 ووٹوں کی کاو?نٹر فائل پر شناختی کارڈ نمبر یا تو تھے نہیں یا پھر درست نہیں پائے گئے۔728 افراد نے دو مرتبہ ووٹ کاسٹ کیا۔578 ووٹوں پر انگوٹھوں کے نشان نہیں تھے۔121 ایسے ووٹ تھے جن کا حلقے میں اندراج نہیں تھا۔رپورٹ میں 73707 ووٹوں کو درست قرار دیاگیا۔انتخابی عذر داری کی 131 سماعت ہوچکی ہیں



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…