بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کے استعفے جس طرح روکے ،اب بھی ایساکریں ،فضل الرحمان کاایازصادق سے رابطہ

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام ﴿ف﴾ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفے ابھی منظور نہیں کئے۔ استعفے لیگل برانچ کو بھجوا دیئے ہیں ۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے قانونی ماہرین استعفوں کا جائزہ لے رہے ہیں استعفوں کی منظوری پر کل غور کروں گا ۔ مونا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آپ نے پی ٹی آئی کے استعفے روک دیئے اور ایم کیو ایم کے استعفوں کی پہلے دن تصدیق کر دی تمام جماعتوں کے لئے ایک ہی معیار رکھنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر کو استعفے منظور نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور کرنے کے معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفوں کی تصدیق کرنے میں بھی جلد بازی کی گئی پارلیمنٹ ، جمہوریت اور نظام کے تسلسل کی خاطر پی ٹی آئی کے استعفے روک دیئے تو ایم کیو ایم کے کیوں نہیں ؟۔ جمہوریت اور نظام کے تسلسل کے لئے بہتر ہے کہ استعفے منظور نہ کئے جائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…