اسلام آباد(نیوزڈیسک) جمعیت علمائے اسلام ﴿ف﴾ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان سے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفے ابھی منظور نہیں کئے۔ استعفے لیگل برانچ کو بھجوا دیئے ہیں ۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے قانونی ماہرین استعفوں کا جائزہ لے رہے ہیں استعفوں کی منظوری پر کل غور کروں گا ۔ مونا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آپ نے پی ٹی آئی کے استعفے روک دیئے اور ایم کیو ایم کے استعفوں کی پہلے دن تصدیق کر دی تمام جماعتوں کے لئے ایک ہی معیار رکھنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر کو استعفے منظور نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے استعفے منظور کرنے کے معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعفوں کی تصدیق کرنے میں بھی جلد بازی کی گئی پارلیمنٹ ، جمہوریت اور نظام کے تسلسل کی خاطر پی ٹی آئی کے استعفے روک دیئے تو ایم کیو ایم کے کیوں نہیں ؟۔ جمہوریت اور نظام کے تسلسل کے لئے بہتر ہے کہ استعفے منظور نہ کئے جائیں
پی ٹی آئی کے استعفے جس طرح روکے ،اب بھی ایساکریں ،فضل الرحمان کاایازصادق سے رابطہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے



















































