جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کے استعفے،مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق نے حکومت سے اہم مطالبہ کردیا

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق سے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے استعفے کا معاملہ وزیراعظم کی وطن واپسی تک موخر کر نے اور اس معاملے کو پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں طے کر نے کا مطالبہ کردیا ہے یہ مطالبہ انہوںنے بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق سے ٹیلیفون پر رابطے کے دور ان کیا مولانا فضل الرحمن نے زور دیا کہ ایم کیو ایم کے ارکان کے استعفوں کی منظوری میں جلد بازی سے مسائل پیدا ہونگے اس لئے یہ معاملہ وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر موخر کیا جائے مولانا فضل الرحمن نے اسمبلی کے بعض قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سپیکر کے پاس استعفوں کے بارے میں فیصلہ کےلئے طویل وقت موجود ہے اس لئے استعفوں کے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کر ناچاہیے مولانا فضل الرحمن نے زور دیا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر یہ معاملہ پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں طے کیا جائے دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی ان استعفوں کو انتہائی غیر متوقع اور حیران کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک جذباتی عمل ہے جس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ تحمل سے ہونا چاہیے لاہور سے جاری ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ ہم کراچی میں امن اور استحکام چاہتے ہیں جبکہ اس قسم کی صورتحال سے مسائل بڑھیں گے سراج الحق نے کہاکہ ایم کیوایم کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملک خصوصاً کراچی میں امن اور استحکام کی بحالی کےلئے اپنا کر دارادا کر ناچاہیے جلد بازی میں جذباتی طورپر کئے گئے فیصلوں کا اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا انہوںنے کہاکہ استعفوں کا معاملہ مرکزی حکومت کی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے دونوں فریقین کو مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کر ناہونگے



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…