بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

خورشید شاہ چترال میں عمران خان پر برس پڑے

datetime 12  اگست‬‮  2015 |

چترال (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شا ہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اب سندھ آکر تھر والوںکے لئے واویلا کرنے کی بجائے خیبر پختونخوا میں چترال کی خبر لینا چاہئے جوکہ سیلاب سے تباہی و بربادی کے کنارے کھڑی ہے اور انفراسٹرکچر مکمل طور پر سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بدھ کے روز چترال کے متعدد سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے بعد چترال میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت نے تھر کی نو لاکھ آبادی کو بالکل مفت گندم فراہم کررہی ہے اور عمران خان کو چاہئے کہ چترال میں بھی فری گندم سیلاب زدگان کو فراہم کرے جس کی آبادی بھی چار لاکھ ہے۔ انہوںنے کہاکہ چترال میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے اور ہر گاﺅں میں اس کے متاثریںموجود ہیں اور انہوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کا حال پوچھنے کے لئے چترال آئے ہیں اور حکومت پر دباﺅ ڈالیں گے کہ سیلاب زدگان کی ریلیف اور بحالی کے ساتھ ساتھ فزیکل انفراسٹرکچر کی مکمل بحالی کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ لواری ٹنل پراجیکٹ کا آغاز شہید ذولفقار علی بھٹو نے کیا تھا اور اس پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچاکر چترالی عوام کواس سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پراپنا کردار بھر ادا کریںگے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے گزشتہ حکومت میں اس ضلع میں یونیورسٹی کیمپس دی تھی جسے مکمل یونیورسٹی میں تبدیل کرکے ہی دم لیں گے۔ خورشید شاہ نے کہاکہ گلگت بلتستان کی طرح چترال میں بھی سبسڈائزڈ ریٹ پر گندم کی فراہمی کے لئے کوشش کریںگے۔ خورشید شاہ نے سندھ حکومت کی طرف سے پانچ کروڑ روپے کا امدادی چیک ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق کے حوالے کرتے ہوءے ہدایت کی کہ وہ یہ رقم ان ویلفئیر اداروں کے ذریعے بحالی اور ریلیف پر خرچ کرے جو کہ سیلاب زدگان کے لئے کاموں میں مصروف ہیں تاکہ اس رقم کا استعمال درست طور پر ہوسکے۔ اس موقع پر سنےٹر روبےنہ خالد،ممبر قومی اسمبلی نفےسہ شاہ اور سابق چئےر مےن پاکستان بےت المال ،سوےٹ ہوم کے چئےرمےن ذمرد خان بھی موجود تھے ۔ ذمرد خان نے اعلان کےا کہ وہ چترال کے اُن ےتےم بچوں کو سوےت ہوم مےں داخل کرےں گے اور گرےجوےشن تک تعلےم دےں گے جو شہےد فوجےوں اور پولےس شہداءکے بچے ہوں جن کی عمرےں چار سے چھ سال کے درمےان ہوں مےں اُنہےں قافلے کی شکل مےں چترال سے لے جاﺅنگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…