بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

قومی اسمبلی میں قصورواقعہ کے خلاف قرارداد منظور

datetime 11  اگست‬‮  2015 |

ارکان نے نکتہ اعتراض پر اس واقعہ کی مذمت کی اور ملوث افراد کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا میاں عبد المنان نے کہاکہ قصور واقعہ شرمناک واقعہ ہے بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے ہم ملکر اصل ملزمان کو سرعام پھانسی دلوائیں صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت بھی مداخلت کرے یہ معاملہ نیکٹا یا کسی بھی ادارے کے سپردکر دیاجائے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزادلوائی جائے ۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ قصور واقعہ کی نوعیت بھی سانحہ پشاور کی طرح ہی ہے وہاں بھی بچوں کا قتل ہوا یہاں بچوں کے بچپن کو قتل کر دیا گیا یہ صوبائی معاملہ نہیں سانحہ پشاور پر اگر متفقہ قرار داد آسکتی ہے تو سانحہ قصور پر بھی قرارداد آنی چاہیے اسمبلی اگر انسانی حقوق پر بات نہیں کر سکتی تو کس بات پر بحث کرینگے اس واقعہ پر لوکل انتظامیہ کی بیان بازی بھی قابل مذمت ہے معاملے پر جھوٹ بولا گیا رانا ثناءاللہ نے بھی واقعہ سے انحراف کیا لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت کا وطیرہ ہے کہ ہر معاملے پر جو ڈیشل کمیشن بنا کر معاملے کو دبا دیتے ہیں حکومت کو خود اس پر فیصلہ کر ناچاہیے اور سخت ایکشن لینا چاہیے ہمیں اس پر قانون سازی کر نی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں چاروں صوبوں کو اس پر متحرک ہو ناچاہیے میجریٹائرڈ طاہر اقبال نے کہاکہ سانحہ قصور پوری قوم کےلئے قابل شرم ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہو ئے ہمیں ایسے کیسوں میں ملزمان کی سفارش کر نے کی بجائے کیفر کر دار تک پہنچانے کےلئے کر دار ادا کر نا ہوگا والدین کوپتہ ہونا چاہیے کہ ان کے بچے انر نیٹ پر کیا کررہے ہیں اراکین نے کہاکہ قصور واقعہ کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے میڈیا معاشرے میں ان بچوں اور ان کے والدین کی تذلیل بند کرے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو اپنا کام بڑھ چڑھ کر نا ہوگا اور ایسے کیسوں میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی انہوںنے کہاکہ پوائنٹ سکورنگ کی بجائے نیک نیتی سے کام کیا جائے ۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ تیس جون کو یہ معاملہ سامنے آیا اسے دبا دیا گیا اگر اس پر کارروائی ہوتی تو اتنا بڑا ایشو نہ بنتا ہم پوائنٹ سکورنگ کی بجائے عملی اقدام چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی ذمہ داری ہیں ان کے خلاف کارروائی کر تے ہوئے سزا دی جائے یہ مسئلہ رانا ثناءاللہ وزیر قانون کی طرف سے دفاعی بیانات دینے سے الجھا کہ اتنے لوگ نہیں اتنے تھے اتنی ویڈیو نہیں اتنی ویڈیو ہیں قصور کے لوگ مطمئن کیوں نہیں ہورہے ہیں کیونکہ لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوا کمیشن کی رپورٹ آئی پبلک نہیں ہوئی بلکہ پولیس افسران کو باہر بھیج دیا گیا مقامی ایم پی اے کا قصور واقعہ میں ملزمان کو سپورٹ کر نے کانام آرہا ہے مٹی پاﺅ کلچر چھوڑنا ہوگا پوری دنیا میں ہماری بدنامی ہو چکی ہے یہ مسئلہ صوبائی یا وفاقی نوعیت کانہیں بلکہ انسانی نوعیت کا ہے ہمیں سیاسی مفادات

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…