ارکان نے نکتہ اعتراض پر اس واقعہ کی مذمت کی اور ملوث افراد کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا میاں عبد المنان نے کہاکہ قصور واقعہ شرمناک واقعہ ہے بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے ہم ملکر اصل ملزمان کو سرعام پھانسی دلوائیں صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت بھی مداخلت کرے یہ معاملہ نیکٹا یا کسی بھی ادارے کے سپردکر دیاجائے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزادلوائی جائے ۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ قصور واقعہ کی نوعیت بھی سانحہ پشاور کی طرح ہی ہے وہاں بھی بچوں کا قتل ہوا یہاں بچوں کے بچپن کو قتل کر دیا گیا یہ صوبائی معاملہ نہیں سانحہ پشاور پر اگر متفقہ قرار داد آسکتی ہے تو سانحہ قصور پر بھی قرارداد آنی چاہیے اسمبلی اگر انسانی حقوق پر بات نہیں کر سکتی تو کس بات پر بحث کرینگے اس واقعہ پر لوکل انتظامیہ کی بیان بازی بھی قابل مذمت ہے معاملے پر جھوٹ بولا گیا رانا ثناءاللہ نے بھی واقعہ سے انحراف کیا لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت کا وطیرہ ہے کہ ہر معاملے پر جو ڈیشل کمیشن بنا کر معاملے کو دبا دیتے ہیں حکومت کو خود اس پر فیصلہ کر ناچاہیے اور سخت ایکشن لینا چاہیے ہمیں اس پر قانون سازی کر نی چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں چاروں صوبوں کو اس پر متحرک ہو ناچاہیے میجریٹائرڈ طاہر اقبال نے کہاکہ سانحہ قصور پوری قوم کےلئے قابل شرم ہے ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہو ئے ہمیں ایسے کیسوں میں ملزمان کی سفارش کر نے کی بجائے کیفر کر دار تک پہنچانے کےلئے کر دار ادا کر نا ہوگا والدین کوپتہ ہونا چاہیے کہ ان کے بچے انر نیٹ پر کیا کررہے ہیں اراکین نے کہاکہ قصور واقعہ کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے میڈیا معاشرے میں ان بچوں اور ان کے والدین کی تذلیل بند کرے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو اپنا کام بڑھ چڑھ کر نا ہوگا اور ایسے کیسوں میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی انہوںنے کہاکہ پوائنٹ سکورنگ کی بجائے نیک نیتی سے کام کیا جائے ۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ تیس جون کو یہ معاملہ سامنے آیا اسے دبا دیا گیا اگر اس پر کارروائی ہوتی تو اتنا بڑا ایشو نہ بنتا ہم پوائنٹ سکورنگ کی بجائے عملی اقدام چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی ذمہ داری ہیں ان کے خلاف کارروائی کر تے ہوئے سزا دی جائے یہ مسئلہ رانا ثناءاللہ وزیر قانون کی طرف سے دفاعی بیانات دینے سے الجھا کہ اتنے لوگ نہیں اتنے تھے اتنی ویڈیو نہیں اتنی ویڈیو ہیں قصور کے لوگ مطمئن کیوں نہیں ہورہے ہیں کیونکہ لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہوا کمیشن کی رپورٹ آئی پبلک نہیں ہوئی بلکہ پولیس افسران کو باہر بھیج دیا گیا مقامی ایم پی اے کا قصور واقعہ میں ملزمان کو سپورٹ کر نے کانام آرہا ہے مٹی پاﺅ کلچر چھوڑنا ہوگا پوری دنیا میں ہماری بدنامی ہو چکی ہے یہ مسئلہ صوبائی یا وفاقی نوعیت کانہیں بلکہ انسانی نوعیت کا ہے ہمیں سیاسی مفادات
قومی اسمبلی میں قصورواقعہ کے خلاف قرارداد منظور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































