اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ میں ایف آئی اے کے فنڈز کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔ایف آئی کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ پراسیکیوشن کیلئے وفاق سے 11 کروڑ کا مطالبہ کیا گیا جس پر 15 لاکھ روپے فراہم کیے گئے جس پر عدالت نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اگر حکومت کے پاس فنڈز نہیں تو ایف آئی اے کو ٹھیکے پر دے دیا جائے۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس اعجاز افضل نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کے بیان کی وضاحت کیلئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے کہا کہ اگر رپورٹ تسلی بخش نہ ہوئی تو سیکرٹری داخلہ کو عدالت طلب کیا جائیگا۔
حکومت کے پاس ایف آئی اے کیلئے فنڈز نہیں تو اسے ٹھیکے پر دے دیا جائے،سپریم کورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایف آئی اے کی کارروائی، آسٹریلیا جاکر ہم جنس سے شادی اور سیاسی پناہ کی کوشش کرنیوالا پاکستانی گرفتار
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا
-
16سالہ کینسر کی مریضہ سے اجتماعی عصمت دری
-
بغیر کسی ایڈوانس کے مفت میں خواتین کو پنک اسکوٹیز دے رہے ہیں، بڑا اعلان
-
پاکستان میں چاندی کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ نئی قیمت جاری
-
بلاول بھٹو کا خود گاڑی چلاتے ہوئے ای چالان ہو گیا
-
خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا



















































