اسلام آباد(نیو زڈیسک) افغان طالبان نئے امیر ملا اخترمنصور کی نامزدگی کے معاملے پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے جب کہ ایک دھڑے نے تقرری کو غیرشرعی قراردے دیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کا اپنے ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ طالبان کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ ملا اخترمنصور کو تمام طالبان کی جانب سے سربراہ مقرر نہیں کیا گیا جو کہ شرعی قوانین کے خلاف ہے۔ طالبان کے ترجمان ملا عبدالمنان نیازی نے کہا ہے کہ ملا منصور کو منتخب کرنے والوں نے قواعد کے مطابق فیصلہ نہیں کیا جب کہ اسلامی قوانین کے تحت امیر کے فوت ہونے کے بعد شوریٰ کا اجلاس بلایا جاتا ہے اور شوریٰ ہی نئے امیر کا فیصلہ کرتی ہے تاہم طالبان کا ایک گروہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو تحریک کا سربراہ مقررکرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے 30 جولائی کو ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا
مزیدپڑھیے:ن لیگ ، تحریک انصاف میں قربتیں
کہ طالبان کی رہبری شوریٰ کے اراکین اور جید علماء نے مشاورت کے بعد ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی ملا اختر منصورکونیا امیرمقررکیا ہے۔
ملا اختر منصور کا بطور طالبان امیر تقرر غیرشرعی قرار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وراثت
-
11 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان
-
پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا
-
بینکوں میں بھاری رقوم رکھنے والوں کیلئے بری خبر
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
13سالہ لڑکی سے 5 دن میں 30 افراد کی زیادتی
-
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، نیا مون سون سسٹم آج سے فعال، کئی علاقوں میں الرٹ جاری
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
ممانی کے ساتھ مبینہ تعلقات پر بھانجے نے ماموں کو ہلاک کردیا
-
پاکستان بھر کی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں گرنے لگیں
-
سولر پلیٹس کی قیمتوں میں کمی
-
سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا
-
معروف فٹبالر نے اسلام قبول کر لیا



















































