منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی بھی انتقال کر گئے، طالبان ذرائع

datetime 31  جولائی  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی بھی ایک سال قبل وفات پا چکے ہیں۔ جلال الدین حقانی طالبان کے موجودہ سیٹ اپ میں آپریشنل کمانڈر سراج الدین حقانی کے والد ہیں۔ سراج الدین حقانی بھی امریکا کو انتہائی مطلوب میں افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت دس ملین ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جلال الدین حقانی کے دس بیٹوں میں سے تین ڈرون حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جلال الدین حقانی کے ایک بیٹے نصیرالدین حقانی کو اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ نصیرالدین حقانی ذبیح اللہ مجاہد کے نام سے طالبان ترجمان کے طور پر کام کرتے تھے۔ جلال الدین حقانی کا ایک بیٹا انس حقانی افغانستان میں اتحادی افواج کی زیر حراست ہے۔ جلال الدین حقانی کی دو بیوہ ہیں جن میں سے ایک بیوہ کا تعلق افغانستان جبکہ دوسری کا تعلق یمن سے ہے۔ جلال الدین حقانی افغان جہاد کے دوران اہم جنجگو کمانڈر رہے۔ حقانی گروپ کے سابق سربراہ امریکا کو انتہائی مطلوب کمانڈروں میں شامل تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…