منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سلحہ اور سیکورٹی ایجنسیز کے لائسنس کی پالیسی کا اعلان جلد ہوگا، چوہدری نثار

datetime 31  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت جلد ہی اسلحہ لائسنس کے اجراء، ای سی ایل، ویزہ کے اجراء اور سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے لائسنس کے اجراء کی نئی پالیسی کا اعلان کرے گی۔ ان پالیسیوں کی تیاری پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ انہیں بحث کے لئے ایوان میں بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتائی۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی۔ چو ہد ر ی نثار نے کہا کہ سابق دور میں سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے سینکڑوں لائسنس جاری کئے گئے۔ موجودہ حکومت نے جون 2013ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد کسی سکیورٹی ایجنسی کو لائسنس جاری نہیں کیا۔ اس وقت جو سکیورٹی ایجنسیاں ہیں ان میں سے بعض صحیح طور پر کام کر رہی ہیں لیکن سینکڑوں ایجنسیاں ایسی ہیں جن کے سکیورٹی گارڈز تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ وہ بندوق نہیں چلا سکتے یا ان کے پاس بندوق ہوتی ہی نہیں۔ سکیورٹی ایجنسیاں سکیورٹی گارڈز کو تنخواہ پوری نہیں دی جاتی۔ بعض سزا یافتہ لوگ سکیورٹی ایجنسیوں میں بھرتی ہو جاتے ہیں۔ سکیورٹی گارڈز کی سکیو ر ٹی کلیئرنس ہونی چاہئے۔ غیر ملکی تارکین وطن کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت سیاحت، ملازمت یا کاروبار کے لئے پاکستان آنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن ماضی میں اس لبادے میں غیرملکی شہریوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا لئے۔ بعض غیرملکی انسانی اسمگلنگ، منشیات اور قحبہ خانوں کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے پہلی مرتبہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان کے پاسپورٹ ضبط کئے گئے۔ اسلام آباد میں قحبہ خانوں کے خلاف کار ر و ا ئی کی گئی ہے۔ قحبہ خانہ کا ایک مافیا ہے جس میں وسط ایشیا کے ممالک کے لوگ ملوث ہیں۔ اس مافیا کے پیچھے بڑے بڑے لوگ ہیں۔ میں ان کا پردہ رکھنا چاہتا ہوں۔ ہم نے متعلقہ ممالک کے سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ عمران ظفر لغاری نے کہا کہ کراچی سے نیویارک جانے والی پی آئی اے کی پرواز کا رخ سعودی عرب کی جانب کیوں موڑ دیا گیا اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…