اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف نے دھرنے کے دنوں کی تنخواہیں سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کرانے اور جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر تنقید کی صورت میں جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسمبلی میں سٹرینجر آف دی ہاﺅس کہے جانے پر واک آﺅٹ کی حکمت عملی اپنائے جانے کا امکان ہے ۔ پیر کو پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس شاہ محمود قریشی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅ س میں ہوا ، اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شرکت نہیں کی۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ، تنخواہوں کا معاملہ اور جے یو آئی ف اور ایم کیو ایم کی جانب سے ڈی سیٹ کرنے کی گئی تحریک پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی تنخواہیں سیلاب زدگان کے فنڈ میں جمع کرائیگی جبکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر خاموشی اختیار کی جائیگی تاہم اگر تنقید کی گئی تو اس کا جواب دیا جائیگا اور جواب شاہ محمود قریشی دینگے۔شاہ محمود قریشی پارٹی موقف کی بھرپور ترجمانی کرینگے ۔ اگر کسی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر تنقید نہیں کی جاتی تو پی ٹی آئی کے ارکان خاموشی اختیار کرینگے ۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جے یو آئی ف اور ایم کیو ایم کی جانب سے ڈی سیٹ کرنے کی تحریک پر اگر رائے شماری کی گئی تو تحریک انصاف اجلاس سے واک آﺅٹ کریگی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لاہور: چلڈرن اسپتال کی پارکنگ سے ڈاکٹر کی لاش ملنے کا معمہ حل، ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
3 دن سے لاپتہ چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر کی لاش گاڑی سے برآمد، ہسپتال میں خوف و ہراس
-
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی کی کہانی خواجہ سعد رفیق منظرعام پر لے آئے
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف



















































