منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

دریائے سندھ کی بے رحم موجیں ، فصلیں تباہ، ہزاروں خاندان بے گھر

datetime 23  جولائی  2015 |

راجن پور(نیوز ڈیسک)بپھرے دریائے سندھ کی تباہ کاریاں رک نہ سکیں ، راجن پور میں بیٹ سوترہ کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹ گیا ، لیہ ، ڈیرہ غازی خان ، مظفر گڑھ سمیت جنوبی پنجاب میں لاکھوں ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ، سیکڑوں بستیاں زیر آب ، ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے۔گھوٹکی اور کچے کے علاقے میں مزید دیہات ڈوب گئے ، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ دریائے سندھ کی بے رحم موجیں ہرطرف تباہی پھیلاتی جا رہی ہیں۔ پانی کے بے قابو ریلے نے رہائشی آبادیاں چھوڑی ہیں اور نہ ہی فصلیں ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آ رہی ہے اور لوگ بے یارو مدد گار بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ لیہ میں تاحد نگارہ پانی ہی پانی اور ہر طرف سیلابی ریلے نے خوفناک تباہی مچا رکھی ہے۔ تین سو اسی بستیاں زیر آب آنے سے چھپن ہزار خاندان متاثر ہوئے جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔علاقے میں دو لاکھ ایکڑ پر کھڑی کماد اور کپاس کی فصل تباہ ہو گئی۔ کروڑ لعل عیسن بھی سیکڑوں دیہات زیر آب آنے سے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔ ڈی جی خان میں دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے کوٹ چھٹہ کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں۔ جھگڑ امام شاہ میں بھی طغیانی کے بعد کئی دیہات ڈوب گئے ، مظفر گڑھ ، جتوئی ، کوٹ ادو ،علی پور اور راجن پور کے مزید دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ اب تک تین خواتین سمیت سات افراد بے رحم موجوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ صادق آباد میں بھی 3 بستیاں ڈوب گئیں ، گڈو کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے مزید سات دیہات زیر آب آگئے۔گھوٹکی کے مزید 10 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ، سیکڑوں افراد محصور ہیں۔ کندھ کوٹ میں 100 سے زائد دیہات ڈوب گئے ، کچے کے علاقے میں بھی متعدد گاو¿ں زیر آب آ گئے۔ دریائے چناب نے شجاع آباد میں تباہی مچا رکھی ہے ، کئی بستیاں زیر آب ہیں۔بلوچستان کی حب ندی میں طغیانی سے دو موٹر سائیکل سوار ریلے میں بہہ گئے۔ دوسری طرف پاک فوج کی جانب سے متاثر علاقوں میں امدادی کام جاری ہیں اور اب تک ڈیرہ غازیخان ،راجن پور، مظفرگڑھ سمیت متعدد علاقوں میں پانی میں پھنسے ہزاروں افراد کو فوجی دستوں نے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے جوان کشتیوں اور لائف جکیٹس کی مدد سے محصور لوگوں کو پانی سے نکال رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…