جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی‘ لیہ میں382بستیاں ڈوب گئیں

datetime 23  جولائی  2015 |

لیہ(نیوز ڈیسک)جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، لیہ میں 382بستیاں ڈوب گئیں، ڈیرہ غازی خان میں کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔بلوچستان میں بھی سیلابی ریلوں نے کئی بستیاں اجاڑ دیں۔ سیلاب سے سب زیادہ متاثر ہونے والے ضلع چترال کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب میں ایک طرف دریائے سندھ کے سیلابی پانی نے لوگوں کو بے گھر کردیا ، دوسری طرف کوہ سلیمان کے برساتی ریلوں نے مکینوں کو گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ دریائے چناب میں سیلاب سے بھی سیکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔راجن پور میں کوہ سلیمان سے آنے والا برساتی ریلہ قطب سیفن نہر سے گزررہا ہے۔ نہر میں زیادہ سے زیادہ 2200 کیوسک پانی بہہ سکتا ہے جس میں اس وقت 2100 کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔ نہر میں کوہ سلیمان سے مزید پانی آنے کا خدشہ ہے جس سے ملحقہ آبادیاں اور کھیت زیر آب آسکتے ہیں۔جبکہ دریائے سندھ میں سیلاب سے راجن پور کی کچے کی 55 بستیاں زیر آب آچکی ہیں۔ کچے مکانات بہہ گئے ہیں اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں جکڑ امام شاہ فلڈ میں پڑنے والا 100 فٹ چوڑا شگاف اب مزید پھیل گیا ہے۔ پانی آبادی میں داخل ہونے سے 6 ہزار کے قریب لوگ محصور ہوگئے ہیں۔متاثرہ علاقے میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔لیہ میں بکھری احمد خان کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے 382 بستیاں زیرآب آچکی ہیں۔ ڈی سی او رانا گلزار کے مطابق 2 لاکھ 46ہزار سے زائد افراد سیلابی پانی گھرے ہوئے ہیں۔ 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آچکی ہیں۔ گھوٹکی کے قریب قادر پور لوپ بند میں نچلے درجے کا سیلاب ہے،ممکنہ تباہی سے بچنے کیلئے لوپ بند کے کنارے کو پتھروں سے مضبوط کردیاہے۔دریائے سندھ میں سکھر بیراج سے بڑا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔جس کے باعث بیراج کے 53دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 86 ہزار 608 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 888 کیوسک ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…