منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

جنوبی پنجاب میں سیلاب نے تباہی مچا دی‘ لیہ میں382بستیاں ڈوب گئیں

datetime 23  جولائی  2015 |

لیہ(نیوز ڈیسک)جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، لیہ میں 382بستیاں ڈوب گئیں، ڈیرہ غازی خان میں کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔بلوچستان میں بھی سیلابی ریلوں نے کئی بستیاں اجاڑ دیں۔ سیلاب سے سب زیادہ متاثر ہونے والے ضلع چترال کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب میں ایک طرف دریائے سندھ کے سیلابی پانی نے لوگوں کو بے گھر کردیا ، دوسری طرف کوہ سلیمان کے برساتی ریلوں نے مکینوں کو گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ دریائے چناب میں سیلاب سے بھی سیکڑوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔راجن پور میں کوہ سلیمان سے آنے والا برساتی ریلہ قطب سیفن نہر سے گزررہا ہے۔ نہر میں زیادہ سے زیادہ 2200 کیوسک پانی بہہ سکتا ہے جس میں اس وقت 2100 کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔ نہر میں کوہ سلیمان سے مزید پانی آنے کا خدشہ ہے جس سے ملحقہ آبادیاں اور کھیت زیر آب آسکتے ہیں۔جبکہ دریائے سندھ میں سیلاب سے راجن پور کی کچے کی 55 بستیاں زیر آب آچکی ہیں۔ کچے مکانات بہہ گئے ہیں اور فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں جکڑ امام شاہ فلڈ میں پڑنے والا 100 فٹ چوڑا شگاف اب مزید پھیل گیا ہے۔ پانی آبادی میں داخل ہونے سے 6 ہزار کے قریب لوگ محصور ہوگئے ہیں۔متاثرہ علاقے میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔لیہ میں بکھری احمد خان کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے 382 بستیاں زیرآب آچکی ہیں۔ ڈی سی او رانا گلزار کے مطابق 2 لاکھ 46ہزار سے زائد افراد سیلابی پانی گھرے ہوئے ہیں۔ 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آچکی ہیں۔ گھوٹکی کے قریب قادر پور لوپ بند میں نچلے درجے کا سیلاب ہے،ممکنہ تباہی سے بچنے کیلئے لوپ بند کے کنارے کو پتھروں سے مضبوط کردیاہے۔دریائے سندھ میں سکھر بیراج سے بڑا سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔جس کے باعث بیراج کے 53دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 86 ہزار 608 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 888 کیوسک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…