منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

متحدہ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ، کیف الوری اور قمر منصور زیر حراست

datetime 17  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوری اور قمر منصور کو حراست میں لے لیا۔تفصیلات کے مطابق رینجرز کی بھاری نفری نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر سحر کے اوقات میں چھاپہ مارا اور خورشید بیگم میموریل ہال میں داخل ہوگئی جہاں ایم کیو ایم کے رہنمائوں عظیم فاروقی، سفیان یوسف، قمر منصور اور انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوری کو تفتیش کے لئے حراست میں لے لیا تاہم عظیم فاروقی اور سفیان یوسف کو تفتیش کے کچھ دیربعد چھوڑ دیا گیا جب کہ قمر منصور اور انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوری کو مزید تفتیش کے لئے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جب کہ نائن زیرو سے روانگی کے بعد رینجرز نے ایم کیو ایم کے رہنماں فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی کے گھروں پربھی چھاپہ مارا تاہم دونوں اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ رینجرز نے اورنگی ٹائون، ماڈل کالونی اور ملیر سمیت مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ایم کیو ایم کے 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔نائن زیرو پر چھاپے کے وقت رینجرز نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کردیا تھا اور علاقہ مکین سمیت کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں تھی جب کہ اس موقع پر خورشید بیگم میموریل ہال میں موجود دیگر افراد سے بھی تفتیش کی گئی۔دوسری جانب ترجمان ایم کیو ایم واسع جلیل کا کہنا ہے کہ رینجرز نے چھاپے کے دوران انچارج رابطہ کمیٹی کیف الوری اورقمرمنصورکو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تاحال مزید کسی کارکن کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کاکہنا تھا کہ نائن زیرو پر چھاپہ بغیر وارنٹ کے مارا گیا ہے ثابت ہوگیا کہ کراچی آپریشن صرف ایم کیوایم کیخلاف ہورہاہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رینجرز نے مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپا مارکر ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سمیت درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیا تھا تاہم عامر خان کو بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…