بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سرحدی کشیدگی،امیدہے بھارت سے مذاکرات پراثرنہیں پڑے گا،دفترخارجہ

datetime 16  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سرحدوں پر فائرنگ،بھارتی ڈرون کے مار گرائے جانے اور اس کے بعد پاک چین اقتصادی راہداری پر پاکستان میں بھارتی سفیر کی ہرزہ سرائی کے باوجودپھر بھی حکومت پاکستان کے مذاکرات موقف پر عوام میں غم و غصہ کی لہردوڑ گئی ہے او رعوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو سخت جواب دیاجائے۔پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ گولہ باری اور سرحدی کشیدگی کا دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ سے چار پاکستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں کہا کہ متنازعہ سرحد پر کشیدگی اور فائرنگ کا گذشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کے درمیان طے پانے والے امور پر منفی اثر نہیں ہو گا۔’لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اس کے باوجود دونوں ملکوں نے ایک دوسرے سے رابطے رکھے۔ جو ہمارے درمیان تنازعات اور مشکل مسائل ہیں ان سے منہ نہیں موڑا اور ملتے رہے۔ اس بار بھی جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان اوفا میں ہونے والے تمام فیصلوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فائرنگ، چار پاکستانی ہلاکیاد رہے کہ پاکستانی اور بھارتی وزراعظم نے روسی شہر اوفا میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں اور فوجی حکام کے درمیان ملاقاتوں پر اتفاق کیا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ ترین قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر اور فوجی حکام کشیدگی کم کرنے اور باصابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے بات چیت کریں گے۔ قاضی خلیل اللہ کے مطابق پاکستانی قیادت کا عزم ہے کہ سرحدی کشیدگی یا کسی بھی دوسرے ناخوشگوار واقعے کو مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔قاضی خلیل اللہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں بھارت کے سفیر ڈاکٹر ٹی اے راگھوان کو آج جمعرات کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے لائن آف کنٹرول کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا گیا۔
’بھارت کی جانب سے حالیہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ ایک بھارتی جاسوس طیارہ پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا بھی مرکب ہوا ہے۔ ان باتوں پر بھارتی سفیر سے باضابطہ احتجاج کیا گیا ہے۔‘واضح رہے کہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے یہ واقعات ورکنگ باؤنڈری پر چپرار سیکٹر اور لائن آف کنٹرول کے نزدیک نیزہ پیر کے مقامات پر پیش آئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے چپرار سیکٹر میں بدھ کو رات گئے فائرنگ کی۔اس فائرنگ سے ملانا اور صالح پور نامی دیہات سے تعلق رکھنے والے تین شہری غلام مصطفیٰ، راحت اور بوٹا ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ سے پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔فوج کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر بھی راولا کوٹ کے نزدیک نیزہ پیر سیکٹر میں جمعرات کو بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی جس سے 18 سالہ زرینہ بی بی ہلاک ہو گئیں۔-



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…