منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

این جی اوز کے مستقبل بارے حکومت کاسخت فیصلہ

datetime 6  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ’نادرا‘ سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کے لیے آن لائن نظام وضع کرے۔وزارت داخلہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک اجلاس میں نادرا سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے عمل کے علاوہ ان کی سرگرمیوں کو حکومتی ضابطہ کار کا پابند بنانے کے لیے آن لائن نظام متعارف کروائے۔گزشتہ ماہ حکومت نے ملک میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی سخت کرتے ہوئے یہ کام اقتصادی امور ڈویژن کی بجائے وزارت داخلہ کو سونپ دیا تھا۔اس کے علاوہ تمام تنظیموں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تین ماہ میں اپنی نئی رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں۔ نئے قوانین و ضوابط بننے تک حکومت نے ملک میں پہلے موجود تمام تنظیموں کو ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے خارجہ اُمور طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے لیے ایک ضابطہ کار، ان کی نگرانی کا طریقہ کار اور اس ضمن میں قانون سازی کا مسودہ تجویز کرے گی۔گزشتہ ماہ حکومت نے بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا اسلام آباد میں دفتر بھی بند کر دیا تھا۔ تاہم بعد میں اسے بھی چھ ماہ تک اپنا کام جاری رکھنے کی مشروط اجازت دے دی گئی تھی۔دریں اثنا، حکومت نے مقامی ’این جی اوز‘ کی جانچ پڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ معاملہ ایک ’این جی او‘ کے عہدیدار سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں بھی زیر غور آیا۔گزشتہ ہفتے عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ملک میں کام کرنے والی تمام غیر سرکاری تنظیموں کے عہدیداروں اور ذرائع آمدن کے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں اور حکومت سے استفسار کیا تھا کہ وہ ان کی آمدن کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق عدالت عالیہ کے حکم کے بعد پاکستان کے آڈیٹر جنرل نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک میں کام کرنے والی ’این جی اوز‘ کے اکاؤنٹس کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے میں حکومت کی مدد کرے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…