منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 25 جولائی کو ہوتے دکھائی نہیں دے رہے، سپریم کورٹ

datetime 6  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں اسلام آباد میں بلدتیا انتخابات 25 جولائی کو ہوتے نظر نہیں آ رہے۔سپریم کورٹ میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے موقع پر الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ہم نے اسلام آباد میں 25 جولائی کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا ہے اور 7 جولائی سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام بھی شروع کر دیا جائے گا، بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا تاہم سینیٹ سے بل کی منظوری نہ ہونے کے باعث الیکشن کے انعقاد میںمشکلات ہیں، اگر یہ بل سینیٹ سے کل منظور ہو جاتا ہے تو پھر انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانا ہوں گے تاہم موجودہ صورت حال میں الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر کروائے جا رہے ہیں، اگر بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لئے سارے انتظامات دوبارہ سے کرنے ہوں گے اس لئے عدالت ہمیں ہدایت دے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن سے بل کی صورت حال کے حوالے سے استفسار کیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بل 26 مارچ کو قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا لیکن سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں پڑا ہوا ہے
مزیدپڑھیے:وزن کم کرناہے توخشک میوے کھائیں

اور اس کی منظوری ہونا باقی ہے۔ جسٹس عظمت سعید کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ آپ جو صورت حال بیان کر رہے ہیں اس کے مطابق تو 25 جولائی کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ کیا اسلام آباد کے شہریوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کر سکیں۔عدالت نے ڈپنی اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ سیکرٹری سینیٹ سے ہدایات لے کر بتائیں کہ بل کب تک منظور ہوگا جس پر عامر رحمٰن کا کہنا تھا کہ مجھے عید سے قبل بل سینیٹ سے منظور ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سینیٹ سے بل کی منظوری کی ہدایت لینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…