اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

الطاف حسین کو 1994 سے بھارت سے پیسے ملنے لگے تھے، طارق میر

datetime 27  جون‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک) ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر کا انٹرویو منظر عام پر آگیا ہے جس میں انھوں نے بھارت کی جانب سے تربیت اور مالی امداد کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت سے پیسے ملنے کا معاملہ پارٹی سے خفیہ رکھاگیا تھا،دوسری جانب ایم کیو ایم نے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے انکارکر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما طارق میر نے برطانوی پولیس کوجوانٹرویو دیا تھا وہ6 صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ الطاف حسین کو بھارت سے مختلف ذرائع سے پیسے مل رہے تھے، ہم نے بھارت سے 15 لاکھ ڈالرمانگے تھے۔ انھیں1994سے کچھ پیسے ملنے لگے تھے، بھارت نے پہلے فنڈنگ ڈالروں اور بعد میں پاؤنڈز میں دی۔بھارتی فنڈنگ کا علم صرف چار افراد کو تھا۔ ان میں الطاف حیسن، محمد انور، عمران فاروق اور وہ (طارق میر)شامل تھے۔ بھارتی حکام سے رابطہ محمد انور کے ذریعے ہوتا تھا، بظاہر ہم سے ملنے والے بھارتی حکام کا تعلق را سے ہوتا تھا۔ ہم سے ملنے والے بھارتی افسر کی پہنچ بھارتی وزیراعظم تک تھی۔ بھارتی حکام سے پہلی ملاقات اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوئی تھی۔اس کے علاوہ زیورخ ، پراگ اور سالٹس برگ میں بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقاتیں محمد انور کے ذریعے ہوتی تھیں۔ ہم سے ملنے والے بھارتی افسروں نے اپنے اصل نام نہیں بتائے۔ ملاقات سے دو روز پہلے انھیں مطلع کیا جاتا تھا۔ اور اس کے (طارق میر) کے ذمے ہوائی ٹکٹ اور ہوٹل کا بندوبست کرنا ہوتا تھا۔ انٹر ویوکے پہلے صحفہ پر4 لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی امداد کا ذکر ہے۔اس رقم کے استعمال کے بارے میں برطانوی تفتیش کاروں نے جب سوال کیا کہ یہ کہاں خرچ ہوتی تھی تو طارق میر نے جواب دیا کہ یہ اسلحہ کی خریداری اور اس کی تربیت اور گھروں کی خریداری پر خرچ ہوتی تھی۔ طارق میر نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ کارکنوں کو تربیت کے لیے بھارت بجھوایا گیا۔ ادھر ایم کیو ایم کی جانب سے انٹرویو کے حوالے سے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ بیان کی حقیقت کیا ہے، معلوم نہیں ہے۔ بیان پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…