پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

وفاقی وزارت داخلہ کا24ہزارافراد کو گرفتار کرنے کا حکم

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزارتِ داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 24 ہزار غیر ملکیوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ تھے۔ان غیر ملکیوں نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی ’نادرا‘ کے حکام کے ساتھ مبینہ طور پر سازباز کر کے مختلف ادوار میں پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے تاہم اب انھیں منسوخ کیا جا چکا ہے۔ادھر نادرا کا کہنا ہے کہ ان 24 ہزار افراد کے علاوہ 76 ہزار سے زائد افراد کے شناختی کارڈ مشکوک ہونے کی صورت میں ان کی تجدید نہیں کی گئی ہے اور ان میں سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔نادرا کے حکام کے مطابق جن غیر ملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے ہیں ان میں سے اکثریت افغان باشندوں کی ہے جبکہ بنگلہ دیش اور برما سے تعلق رکھنے افراد علی الترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔خفیہ اداروں نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کو رپورٹیں بھجوائی ہیں جن میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کے اہلکار ان افراد کی طرف سے مختلف بینکوں میں کھلوائے گئے اکاونٹ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ شناختی کارڈ پر ان افراد کے جو اپنے گھروں کے پتے لکھوائے تھے ان میں اکثریت ان رہائشی پتوں پر موجود نہیں جبکہ ا±ن کے بارے میں معلومات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوں گے۔وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان رپورٹس کی روشنی میں چاروں صوبوں کی پولیس کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کرایہ داروں سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروائیں جس میں کرائےدار کے علاوہ مالک مکان کا موثر شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔ اہلکار کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے سے ایسے افراد کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔وزارتِ داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان رپورٹوں کی روشنی میں چاروں صوبوں کی پولیس کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کرایہ داروں سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروائیں جس میں کرائے دار کے علاوہ مالک مکان کا موثر شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔ اہلکار کے مطابق اس پالیسی پر عمل درآمد کرنے سے ایسے افراد کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔اہلکار کے مطابق شناختی کارڈ منسوخ کیے جانے والے افراد کے بینک اکاو¿نٹ بند کرنے کے بارے میں سٹیٹ بینک کو لکھا گیا تھا تاہم اس بارے میں اب تک خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی۔نادرا کے ترجمان فائق علی کے مطابق ان 24 ہزار افراد کے علاوہ 76 ہزار سے زائد افراد ایسے بھی ہیں جن کے شناختی کارڈ مشکوک پائے گئے ہیں اور اس وجہ سے ان کی تجدید بھی نہیں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان 76 ہزار افراد میں سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کے کوائف کی تحقیقات کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان ٹیموں میں فوج کے خفیہ دارے آئی ایس آئی کے علاوہ آئی بی اور پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔فائق علی کے مطابق صوبہ پنجاب اور سندھ میں کوائف کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی سربراہی انٹیلی جنس بیورو کے افسران کریں گے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ان تحقیقاتی ٹیموں کی سربراہی آئی ایس آئی کے افسران کو سونپی گئی ہے اور بلوچستان میں ان ٹیموں میں فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…