پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

ایکٹ آف پارلیمنٹ فوج کو عدالتوں کا کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہیں اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت ہے ۔ فوج کو عدالتوں کے اختیار نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی ۔آئین کے بنیادی خدوخال میں آزاد عدلیہ شامل ہے ۔ قانون ساز اسمبلی نے قانون بنانے میں حکمت سے کام لیا ہے ۔ اداروں کو ان کے دائرہ کار کے مطابق اختیارات دیئے گئے ہیں۔ آرٹیکل 5 کے تحت شہریوں کا اپنے ملک کا فرمانبردار ہونا ضروری ہے ۔ تمام تر قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے ۔ نظریہ پاکستان کا نظریہ تبدیل نہیں ہو گا اور ملک کو لا دین نہیں بنایا جا سکتا ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس وقت کے اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ کیا پاکستان بھارت کے ساتھ کنفڈریشن بنا سکتا ہے اور اس حوالے سے اس کے کیا اختیارات ہیں ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس کا تمام تر اختیار ہے مگر وہ اس سلسلے میں اپنا اختیار استعمال نہیں کرے گی کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان جو نظریاتی اختلاف ہے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں نے علیحدہ ملک حاصل کیا تھا وہ ختم ہو جائے گا اور یہ نظریہ سے متصادم ہو گا ۔ اعلی عدلیہ کے اختیارات کو ترمیم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ بعض بنیادی خدوخال کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اعلی عدلیہ کو تمام تر غیر آئینی اقدامات کو ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ آئین میں سپریم کورٹ کا الگ سے ذکر ہے ۔ جس سے اس کے اختیارات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے آرٹیکل 184(3) کے تحت تمام تر اختیارات موجود ہیں جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے جو فیصلہ پڑھا ہے اس کو سپریم کورٹ نے اوور رول کر دیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…