منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

ایکٹ آف پارلیمنٹ فوج کو عدالتوں کا کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ انہیں اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت ہے ۔ فوج کو عدالتوں کے اختیار نہیں دیئے جا سکتے کیونکہ اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی ۔آئین کے بنیادی خدوخال میں آزاد عدلیہ شامل ہے ۔ قانون ساز اسمبلی نے قانون بنانے میں حکمت سے کام لیا ہے ۔ اداروں کو ان کے دائرہ کار کے مطابق اختیارات دیئے گئے ہیں۔ آرٹیکل 5 کے تحت شہریوں کا اپنے ملک کا فرمانبردار ہونا ضروری ہے ۔ تمام تر قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے ۔ نظریہ پاکستان کا نظریہ تبدیل نہیں ہو گا اور ملک کو لا دین نہیں بنایا جا سکتا ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس وقت کے اٹارنی جنرل سے پوچھا تھا کہ کیا پاکستان بھارت کے ساتھ کنفڈریشن بنا سکتا ہے اور اس حوالے سے اس کے کیا اختیارات ہیں ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس کا تمام تر اختیار ہے مگر وہ اس سلسلے میں اپنا اختیار استعمال نہیں کرے گی کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان جو نظریاتی اختلاف ہے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں نے علیحدہ ملک حاصل کیا تھا وہ ختم ہو جائے گا اور یہ نظریہ سے متصادم ہو گا ۔ اعلی عدلیہ کے اختیارات کو ترمیم کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ بعض بنیادی خدوخال کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اعلی عدلیہ کو تمام تر غیر آئینی اقدامات کو ختم کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ آئین میں سپریم کورٹ کا الگ سے ذکر ہے ۔ جس سے اس کے اختیارات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے آرٹیکل 184(3) کے تحت تمام تر اختیارات موجود ہیں جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے جو فیصلہ پڑھا ہے اس کو سپریم کورٹ نے اوور رول کر دیا تھا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…