اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی اگلے 200 سال تک ختم نہ ہوئی تو کیا یہ فوجی عدالتیں 200 سال تک قائم رہیں گی ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا کیا جواز ہے ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ فوجی آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں ہے ۔ چاہے وہ مارشل لاءمکمل طور پر لگایا گیا ہو یا ادھورا ۔ رواں ماہ مقدمے کی سماعت مکمل کریں گے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اچھا یا برا مارشل لاءنہیں ہوتا ، مارشل لاءتو مارشل لاءہے ۔ پہلے مارشل لاﺅں میں عدلیہ کو شامل نہیں کیا گیا مگر 21 ویں ترمیم میں عدلیہ کو ساتھ شامل کر کے خالی جگہ ( گیپ ) پر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر شروع دن سے ہی فوجی عدالتیں قائم کرنے کی آئین میں گنجائش پیدا کر دی جاتی تو تب بھی عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا تھا ۔ پہلے فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت تھی ۔ 21 ویں آئینی ترمیم سے تحفظ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ 16 جون کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز ہو گا ۔ 17 جون کو دیگر وکلاء دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں یہ ہدایت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے جاری کی ہے ۔ اس دوران لاہور ہائی کورٹ بار ، لاہور بار کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل جاری رکھے اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا کسی طور کوئی جواز نہیں ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 21 ویں ترمیم سے قبل فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت بنائی گئیں ۔ اس طرح فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کے ذریعے بنائی گئیں ۔ فوجی عدالتوں کو قانونی تحفظ دینے کے لئے 175 اے میں ترمیم کی گئی ۔ حامد خان نے کہا کہ 1953 میں عبدالستار نیازی کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…