پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی اگلے 200 سال تک ختم نہ ہوئی تو کیا یہ فوجی عدالتیں 200 سال تک قائم رہیں گی ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا کیا جواز ہے ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ فوجی آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں ہے ۔ چاہے وہ مارشل لاءمکمل طور پر لگایا گیا ہو یا ادھورا ۔ رواں ماہ مقدمے کی سماعت مکمل کریں گے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اچھا یا برا مارشل لاءنہیں ہوتا ، مارشل لاءتو مارشل لاءہے ۔ پہلے مارشل لاﺅں میں عدلیہ کو شامل نہیں کیا گیا مگر 21 ویں ترمیم میں عدلیہ کو ساتھ شامل کر کے خالی جگہ ( گیپ ) پر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر شروع دن سے ہی فوجی عدالتیں قائم کرنے کی آئین میں گنجائش پیدا کر دی جاتی تو تب بھی عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا تھا ۔ پہلے فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت تھی ۔ 21 ویں آئینی ترمیم سے تحفظ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ 16 جون کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز ہو گا ۔ 17 جون کو دیگر وکلاء دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں یہ ہدایت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے جاری کی ہے ۔ اس دوران لاہور ہائی کورٹ بار ، لاہور بار کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل جاری رکھے اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا کسی طور کوئی جواز نہیں ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 21 ویں ترمیم سے قبل فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت بنائی گئیں ۔ اس طرح فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کے ذریعے بنائی گئیں ۔ فوجی عدالتوں کو قانونی تحفظ دینے کے لئے 175 اے میں ترمیم کی گئی ۔ حامد خان نے کہا کہ 1953 میں عبدالستار نیازی کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…