منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں،سپریم کورٹ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشت گردی اگلے 200 سال تک ختم نہ ہوئی تو کیا یہ فوجی عدالتیں 200 سال تک قائم رہیں گی ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا کیا جواز ہے ۔ چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ فوجی آمروں کے لگائے گئے مارشل لاﺅں کی کوئی وضاحت قابل قبول نہیں ہے ۔ چاہے وہ مارشل لاءمکمل طور پر لگایا گیا ہو یا ادھورا ۔ رواں ماہ مقدمے کی سماعت مکمل کریں گے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اچھا یا برا مارشل لاءنہیں ہوتا ، مارشل لاءتو مارشل لاءہے ۔ پہلے مارشل لاﺅں میں عدلیہ کو شامل نہیں کیا گیا مگر 21 ویں ترمیم میں عدلیہ کو ساتھ شامل کر کے خالی جگہ ( گیپ ) پر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر شروع دن سے ہی فوجی عدالتیں قائم کرنے کی آئین میں گنجائش پیدا کر دی جاتی تو تب بھی عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا تھا ۔ پہلے فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت تھی ۔ 21 ویں آئینی ترمیم سے تحفظ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ 16 جون کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز ہو گا ۔ 17 جون کو دیگر وکلاء دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں یہ ہدایت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے جاری کی ہے ۔ اس دوران لاہور ہائی کورٹ بار ، لاہور بار کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل جاری رکھے اور کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا کسی طور کوئی جواز نہیں ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 21 ویں ترمیم سے قبل فوجی عدالتیں انتظامی اختیارات کے تحت بنائی گئیں ۔ اس طرح فوجی عدالتیں آئینی ترمیم کے ذریعے بنائی گئیں ۔ فوجی عدالتوں کو قانونی تحفظ دینے کے لئے 175 اے میں ترمیم کی گئی ۔ حامد خان نے کہا کہ 1953 میں عبدالستار نیازی کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی ۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ،



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…