منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

دہشتگردوں کوکہیں بھی چھپنے نہیں دیں گے،صدر ممنون

datetime 4  جون‬‮  2015 |

صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا جو آپریشن ضرب ِ عضب کی شکل میں جاری ہے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا،دہشت گرد فاٹا ،کراچی سمیت ملک کے کسی بھی کونے میں سرگرم ہوں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی،دہشت گرد کسی غلط فہمی میں نہ رہیں انہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچائیں گے،حکومت اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کررہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ صدر ممنون نے کہا کہ بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں،جنوبی ایشیاءمیں دیر پا امن کے لئے ضروری ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر ،پانی تنازع اور تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات کئے جائیں ،بھارت سے سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات بحال ہوئے لیکن پیشرفت نہ ہو سکی ،بھارت نے خود ہی سیکرٹری خارجہ مذاکرات کو معطل کیا ،بات چیت اور مذاکرات سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے ،چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق حل ہو۔صدر ممنون نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا کے لئے مثال بن چکی ہے ،حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دیا ہے،پاک چین کے اشتراک سے اقتصادی راہداری منصوبہ پوری دنیا کے لئے مثال ہے،راہداری منصوبے سے پاکستان سمیت پورے خطے میں خوشحالی آئے گی اور ایک معاشی انقلاب برپا ہوگا،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ حکومت کے ساتھ نئے دور کا آغاز ہوا ہے ،دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کیلئے کردار ادا کررہے ہیںاور دونوں کی سوچ یکساں ہیں،پاکستان افغانستان میں امن کیلئے کوشاں ہے ،خطے میں امن کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستا ن میں امن ہو،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلافپاک امریکہ تعاون غیر معمولی ہے،دونوں ممالک کے درمیان کے بہتر تعلقات ہیںاور باہمی تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ یمن بحران پر پاکستان نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور امید ہے کہ ان کوششوں سے یمن بحران حل ہو جائے گا، اسلامی دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی پُرجوش ہیں۔حال ہی میں یمن کا بحران پیدا ہوا تو اس کے حل کے لیے پاکستان نے قائدانہ کردار ادا کیا۔سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر اسلامی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اِن میں مزید وسعت آرہی ہے،پاکستانی کی سفارتی پالیسی کامیاب رہی ہے حال ہی میں چین ، ترکی،افغانستان،مالدیپ،قطر، سری لنکا اور بیلا روس کے صدور اور سربراہان حکومت کے علاوہ امریکا کے وزیر خارجہ اور روس کے وزیردفاع پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں ، اِن رہنماو¿ں کے دورے کامیاب خارجہ پالیسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…